کیا یہ بات ٹھیک ہے؟ کہ مرنے والے شخص کو قبر میں اپنے ورثاء کے نیک و بد اعمال کا پتہ چلتاہے۔
واضح رہے کہ مرنے والے شخص کو اپنے ورثاء کے نیک وبد اعمال کے متعلق اللہ تعالٰی کی مشیئت سے آگاہی ملتی ہے، اگر عزیز و اقارب نیک اعمال کریں تو اس سے مرحوم کی روح خوش ہوتی ہے اور اگر بُرے اعمال کریں تو اس سے مرحوم کو رنج پہنچتا ہے۔
*مسند أحمد(20/ 114 ،رقم الحدیث:12683،ط:مؤسسة الرسالة)*
حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا سفيان، عمن سمع أنس بن مالك يقول: قال النبي صلى الله عليه وسلم: " إن أعمالكم تعرض على أقاربكم وعشائركم من الأموات، فإن كان خيرا، استبشروا به، وإن كان غير ذلك، قالوا: اللهم لا تمتهم حتى تهديهم كما هديتنا ".