مرحوم کو ورثاء کے اعمال کا علم ہونے کا حکم

فتوی نمبر :
2123
عقائد / /

مرحوم کو ورثاء کے اعمال کا علم ہونے کا حکم

کیا یہ بات ٹھیک ہے؟ کہ مرنے والے شخص کو قبر میں اپنے ورثاء کے نیک و بد اعمال کا پتہ چلتاہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ مرنے والے شخص کو اپنے ورثاء کے نیک وبد اعمال کے متعلق اللہ تعالٰی کی مشیئت سے آگاہی ملتی ہے، اگر عزیز و اقارب نیک اعمال کریں تو اس سے مرحوم کی روح خوش ہوتی ہے اور اگر بُرے اعمال کریں تو اس سے مرحوم کو رنج پہنچتا ہے۔

حوالہ جات

*مسند أحمد(20/ 114 ،رقم الحدیث:12683،ط:مؤسسة الرسالة)*
حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا سفيان، عمن سمع أنس بن مالك يقول: قال النبي صلى الله عليه وسلم: " ‌إن ‌أعمالكم ‌تعرض ‌على ‌أقاربكم وعشائركم من الأموات، فإن كان خيرا، استبشروا به، وإن كان غير ذلك، قالوا: اللهم لا تمتهم حتى تهديهم كما هديتنا ".

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
18
فتوی نمبر 2123کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --
  • 149