نکاح

مجنونہ عورت کا نکاح کرنا

فتوی نمبر :
2104
معاملات / احکام نکاح / نکاح

مجنونہ عورت کا نکاح کرنا

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مولوی صاحب! کیا کوئی آدمی اپنی مجنونہ بیٹی کا نکاح کروا سکتا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مجنونہ عورت کا نکاح اس کے باپ کی ولایت اور اجازت سے جائز ہے، تاہم شرعاً ضروری ہے کہ عورت کی ذہنی معذوری کی مکمل حقیقت لڑکے کو پہلے سے بتا دی جائے، کیونکہ اس کو چھپانا دھوکہ اور ناجائز ہے، دیانت داری کے ساتھ اطلاع دینا نکاح کے درست اور پائیدار ہونے کے لیے لازم ہے۔

حوالہ جات

*الدرالمختار:(65/3،ط: دارالفكر )*
(وللولي) الآتي بيانه (إنكاح الصغير والصغيرة) جبرا (ولو ثيبا) كمعتوه ومجنون شهرا .

*الشامىة:(65/3،ط: دارالفكر)*
(قوله وللولي الآتي بيانه) أي في قوله الولي في النكاح العصبة بنفسه إلخ، واحترز به عن الولي الذي له حق الاعتراض فإنه يخص العصبة كما مر وعن الوصي غير القريب كما مر ويأتي أيضا (قوله إنكاح الصغير والصغيرة) قيد بالإنكاح لأن إقراره به عليهما لا يصح إلا بشهود أو بتصديقهما بعد البلوغ كما سيذكره المصنف آخر الباب، ولو قال وللولي إنكاح غير المكلف والرقيق لشمل المعتوه ونحوه.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
17
فتوی نمبر 2104کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --