بینک میں سونا جمع کروا کر قرض لینے کی صورت میں بینک کی طرف سے ملنے والے انعامات کا حکم

فتوی نمبر :
205
معاملات / مالی معاوضات /

بینک میں سونا جمع کروا کر قرض لینے کی صورت میں بینک کی طرف سے ملنے والے انعامات کا حکم

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
بہت زیادہ سونا رکھا تھا بینک میں قرض کے بدلے میں تو اس زیادہ سونے کی وجہ سے بینک والوں نے چار موبائل دیے ہیں تو اس کا استعمال کیسا ہے

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

ذکر کردہ صورت میں بینک کی طرف سے ملنے والے موبائل چونکہ سودی معاہدہ(agreement) کے نتیجے میں ملے ہیں، لہٰذا یہ موبائل لینا بھی نا جائز ہے،اس لیے معاہدہ(agreement) ختم کر کے بطور قرض لی گئی رقم لوٹانے کے ساتھ موبائل واپس کرنا بھی ضروری ہے ۔

حوالہ جات

صحيح مسلم: (5 / 50،الرقم:1597،ط:دار طوق النجاۃ)
" عن جابر قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الرباط وموكله وكاتبه وشاهديه، وقال: کی هم سواء"

تبيين الحقائق:(6/ 29،ط: دار الکتاب الاسلامی)

وكل قرض جر منفعة لا يجوز مثل أن يقرض دراهم غلة على أن يعطيه صحاحا أو يقرض قرضا على أن يبيع به بيعا؛ لأنه روي أن كل قرض جر منفعة فهو ربا، وتأويل هذا عندنا أن تكون المنفعة موجبة بعقد القرض مشروطة فيه، وإن كانت غير مشروطة فيه فاستقرض غلة فقضاه صحاحا من غير أن يشترط عليه جاز، ۔۔وذلك؛ لأن القرض تمليك الشيء بمثله فإذا جر نفعا صار كأنه استزاد فيه الربا فلا يجوز؛ ولأن القرض تبرع وجر المنفعة يخرجه عن موضعه، وإنما يكره إذا كانت المنفعة مشروطة في العقد.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
128
فتوی نمبر 205کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --