مفتی صاحب!
قرآن کریم کی ترتیب جمع کی پوری تفصیل عنایت فرمائیں جزاک اللّہ
قرآنِ کریم وہ واحد آسمانی کتاب ہے جو آج بھی اپنی اصل حالت میں محفوظ ہے، اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود اس کی حفاظت کا وعدہ فرمایا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:’’بلاشبہ ہم نے ہی اس ذکر (قرآن) کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔‘‘
قرآنِ کریم کا سب سے مضبوط تحفّظ حفظ کے ذریعے ہوا،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نزولِ وحی کے وقت آیات کو فوراً یاد فرماتے تھے، ابتدا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم وحی یاد کرنے کے شوق میں الفاظ دہرانے لگتے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطمینان دلایا کہ قرآن کا جمع کرنا اور یاد کروانا اللہ کے ذمے ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ صرف خود قرآن کے سب سے بڑے حافظ تھے بلکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بھی حفظ، تلاوت اور تعلیمِ قرآن کی خصوصی ترغیب دیتے تھے، چنانچہ درجنوں صحابہ کرام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہی میں پورا قرآن حفظ کرلیا۔
اس کے ساتھ ہی قرآنِ مجید کو لکھنے کا بھی باقاعدہ اہتمام کیا گیا، وحی نازل ہوتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کاتبینِ وحی کو بلاتے، آیات لکھواتے اور واضح طور پر بتاتے کہ فلاں آیت کس سورت میں اور کس مقام پر رکھی جائے گی، اس طرح 23 برس کے عرصے میں پورا قرآن نازل ہوا اور اس کی ترتیب بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے حکم سے مکمل ہوگئی، اگرچہ وہ مختلف تحریری صورتوں میں الگ الگ مقامات پر محفوظ تھا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد جنگِ یمامہ میں بڑی تعداد میں حافظ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی شہادت پر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو قرآن کے تحریری نسخے کو ایک جگہ جمع کرنے کی فکر لاحق ہوئی،آپ رضی اللہ عنہ کی تجویز پر خلیفۂ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے قرآن کو ایک مصحف کی شکل میں جمع کرنے کا تاریخی فیصلہ فرمایا۔ اس عظیم ذمے داری کے لیے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو منتخب کیا گیا، جنہوں نے نہایت احتیاط کے ساتھ تحریری اور حفظ شدہ قرآن کو باہمی شہادت اور گواہی کے ذریعے یکجا کیا،یوں قرآنِ مجید پہلی مرتبہ ایک مکمل مصحف کی صورت میں محفوظ ہوگیا۔
بعد کے دور میں جب اسلامی سلطنت پھیل گئی اور مختلف علاقوں میں قراءت کے اختلافات سامنے آنے لگے، تو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے امّت کو اختلاف سے بچانے کے لیے قرآن کو قریش کےلہجے مطابق ایک معیار پر جمع کروایا، مستند نسخے تیار کرکے اسلامی دنیا کے مختلف مراکز میں بھیج دیے گئے، تاکہ سب لوگ ایک ہی مصحف کے مطابق قرآن پڑھیں اور پڑھائیں۔
یوں قرآنِ کریم کا تحفّظ تین مرحلوں میں مکمل ہوا، یہ تمام مراحل اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ قرآنِ مجید محض ایک کتاب نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا زندہ معجزہ ہے، جو قیامت تک پوری انسانیت کے لیے ہدایت کا سرچشمہ بنا رہے گا۔
*المنار في علوم القرآن:(151/1،ط:موسسة الرسالة)*
لقد جمع القرآن في عهد النبي ﷺ حفظا وكتابة، أما حفظه في الصدور فقد تجلى في حفظ النبي ﷺ لهذا القرآن، فقد كان يتشوق ويتلهف لنزول الوحي، فما إن ينزل بالآيات إلا ويعجل النبي ﷺ بحفظها، لذا طمأنه الله سبحانه وأرشده إلى عدم الإسراع والتعجل بالقرآن قال تعالى: لا تحرك به لسانك لتعجل به ١٦ إن علينا جمعه وقرآنه ١٧ فإذا قرأناه فاتبع قرآنه ١٨ ثم إن علينا بيانه [القيامة: ١٦ - ١٩].
وقال تعالى: .. ولا تعجل بالقرآن من قبل أن يقضى إليك وحيه .. [طه: ١١٤].
ومن هنا كان ﷺ جامع القرآن في قلبه الشريف، وسيد الحفاظ في عصره المنيف، ومرجع المسلمين في كل ما يعنيهم من أمر القرآن وعلوم القرآن، وكان ﷺ يقرؤه على الناس على مكث، كما أمره مولاه، وكان جبريل يعارضه إياه في كل عام مرة، وعارضه إياه في العام الأخير مرتين.....أما الصحابة رضوان الله عليهم فقد أخذ القرآن قلوبهم، فأخذوا يتسابقون في حفظه- أحيوا ليلهم وسمع لبيوتهم في غسق الدجى كدوي النحل بالقرآن. بل عرفت منازلهم من سماع تلاوتهم للقرآن، قال رسول الله ﷺ: «إني لأعرف أصوات رفقة الأشعريين بالقرآن حين يدخلون بالليل، وأعرف منازلهم من أصواتهم بالقرآن بالليل.
*شرح صحيح البخاري لابن بطال:(220/10،ط:مكتبة الرشد)*
فيه: زيد بن ثابت، أرسل إلى أبو بكر مقتل أهل اليمامة، فإذا عمر بن الخطاب عنده، قال أبو بكر رضي الله عنه: إن عمر أتانى، فقال: إن القتل قد استحر يوم اليمامة بقراء القرآن، وإنى أخشى أن يستحر القتل بالقراء بالمواطن، فيذهب كثير من القرآن، وإنى أرى أن تأمر بجمع القرآن، قلت لعمر: كيف تفعل شيئا لم يفعله رسول الله (ﷺ)؟ قال عمر: هذا والله خير، فلم يزل عمر يراجعنى حتى شرح الله صدرى لذلك، ورأيت فى ذلك الذى رأى عمر، قال زيد: قال أبو بكر إنك رجل شاب عاقل لا نتهمك، وقد كنت تكتب الوحى لرسول الله (ﷺ)، فتتبع القرآن فاجمعه، فوالله لو كلفونى نقل جبل من الجبال ما كان أثقل علي مما أمرني به من جمع القرآن، قلت: كيف تفعلون شيئا لم يفعله رسول الله (ﷺ)؟ قال: هو والله خير، فلم يزل أبو بكر يراجعني حتى شرح الله صدري للذي شرح له صدر أبي بكر وعمر رضي الله عنهما، فتتبعت القرآن أجمعه من العسب واللخاف وصدور الرجال حتى وجدت آخر سورة التوبة مع أبى خزيمة الأنصارى لم أجدها مع أحد غيره: (لقد جاءكم رسول من أنفسكم عزيز عليه ما عنتم) [التوبة: ١٢٨] حتى خاتمة براءة، فكانت الصحف عند أبى بكر حتى توفاه الله، ثم عند عمر حياته، ثم عند حفصة بنت عمر.
*السنن الكبرى للنسائي:(245/7،ط:مؤسسة الرسالة)*
أخبرنا إسحاق بن إبراهيم قال: أخبرنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا حميد، عن أنس، أن أبي بن كعب قال: «ما حاك في صدري منذ أسلمت إلا أني قرأت آية، فقرأها رجل على غير قراءتي» فقال: أقرأنيها رسول الله ﷺ هكذا فقلت: أقرأني النبي ﷺ هكذا فأتينا رسول الله ﷺ فقلت: أقرأتني آية كذا وكذا فقال رسول الله ﷺ: «نعم» فقال الرجل: أقرأتني آية كذا وكذا فقال رسول الله ﷺ: «نعم» فقال رسول الله ﷺ: «إن جبريل وميكائيل عليهما السلام أتياني فعمد جبريل، فقعد عن يميني، وقعد ميكائيل عن شمالي» فقال جبريل: اقرأ القرآن على حرف، فقال ميكائيل: استزده فقلت: «زدني فزادني» فقال جبريل: «اقرأ القرآن على حرفين» فقال ميكائيل: «استزده» فقلت: «زدني» فقال جبريل: «اقرأ القرآن على ثلاثة أحرف حتى بلغ على سبعة أحرف» فقال ميكائيل: «استزده» فقال: «اقرأ القرآن على سبعة أحرف كلها شاف كاف ۔