حاملہ عورت کا میت کے گھر جانا

فتوی نمبر :
195
/ /

حاملہ عورت کا میت کے گھر جانا

کیا حاملہ عورت کے لیے میت والے گھر جانا جائز ہے؟ ہمارے ہاں بعض لوگ کہتے ہیں کہ جس گھر میں میت ہو، وہاں حاملہ عورت نہیں جانی چاہیے کیونکہ میت کا سایہ بچے پر پڑتا ہے۔ کیا یہ بات شریعت میں ثابت ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ حاملہ عورت کے لیے میت کے گھر تعزیت کے لیے جانا شرعاً جائز ہے اور اس میں کوئی حرج نہیں۔
عوام میں رائج یہ بات کہ "حاملہ عورت میت کے گھر جائے تو میت کا سایہ بچے پر پڑتا ہے"،بے بنیاد ہے۔
شریعتِ مطہرہ میں اس بات کی کوئی اصل موجود نہیں، بلکہ یہ محض ایک توہم پرستانہ عقیدہ ہے، ایسی باتوں سے اجتناب کرنا چاہیے۔

حوالہ جات

صحیح البخاری:(135/7،رقم 7575، ط: دارطوق النجاۃ)
حدثنا محمد بن الحكم: حدثنا النضر : أخبرنا إسرائيل: أخبرنا أبو حصين، عن أبي صالح، عن أبي هريرة رضي الله عنه، عن النبي ﷺ قال: «لا عدوى، ولا طيرة، ولا هامة، ولا صفر.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
205
فتوی نمبر 195کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --
  • 149