زکوۃ و نصاب زکوۃ

سونے اور چاندی میں سے کس کو زکوٰۃ کے نصاب کا معیار بنایا جائے

فتوی نمبر :
1878
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

سونے اور چاندی میں سے کس کو زکوٰۃ کے نصاب کا معیار بنایا جائے

السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ مفتی صاحب!
آج کل کے دور سونے چاندی میں سے کس نصاب کو زکوۃ کے لیے معیار بنایا جائے گا؟ یعنی مال کی زکوۃ ادا کرنے میں سونے کی قیمت کا اعتبار ہوگا یا چاندی کی قیمت کا ؟
براہ کرم ذرا رہنمائی فرمائیں ۔جزاکم اللّٰہ خیرا

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ مفتی بہ قول کے مطابق سونے اور چاندی میں سے جس کا نصاب انفع للفقراء ہو اسی کے مطابق زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہے ،اس لیے موجودہ دور میں اسی قول کے مطابق چاندی کے نصاب کو معیار بناکر فتویٰ دیا جاتا ہے، لہذا اگر کسی کے پاس ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے بقدر اموالِ زکوٰۃ ہوں تو اس پر زکوٰۃ واجب ہوگی۔

حوالہ جات

*الهداية:(130/1،ط:دار احياء التراث العربى)*
الزكاة واجبة في عروض التجارة كائنة ما كانت إذا بلغت قيمتها نصابا من الورق أو الذهب" لقوله ﵊ فيها "يقومها فيؤدي من كل مائتي درهم خمسة دراهم" ولأنها معدة للاستنماء بإعداد العبد فأشبه المعد بإعداد الشرع وتشترط نية التجارة ليثبت الإعداد.

ثم قال: "يقومها بما هو أنفع للمساكين" احتياطا لحق الفقراء قال ﵁ وهذا رواية عن أبي حنيفة ﵀ وفي الأصل خيره لأن الثمنين في تقدير قيم الأشياء بهما سواء وتفسير الأنفع أن يقومها بما يبلغ نصابا..

*فتح القدير:(218/2،ط:دارالفكر)*
(الزكاة واجبة في عروض التجارة كائنة ما كانت إذا بلغت قيمتها نصابا من الورق أو الذهب) لقوله ﵊ فيها «يقومها فيؤدي من كل مائتي درهم خمسة دراهم....(يقومها بما هو أنفع للمساكين) احتياطا لحق الفقراء قال ﵁: وهذا رواية عن أبي حنيفة وفي الأصل خيره لأن الثمنين في تقدير قيم الأشياء بهما سواء، وتفسير الأنفع أن يقومها بما تبلغ نصابا..

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
58
فتوی نمبر 1878کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --