زکوۃ و نصاب زکوۃ

بیوی کے پاس ایک تولہ سونا اور شوہر کی ملکیت میں دو لاکھ کمیٹی کے پیسوں پر زکوٰۃ

فتوی نمبر :
2303
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

بیوی کے پاس ایک تولہ سونا اور شوہر کی ملکیت میں دو لاکھ کمیٹی کے پیسوں پر زکوٰۃ

مفتی صاحب!
میں کرائے کے مکان میں رہتا ہوں۔ میں نے اپنا گھر لینے کے لیے کچھ پیسے جمع کیے ہیں جو کمیٹی وغیرہ ڈال کر تقریباً دو لاکھ روپے بن گئے ہیں۔ اس کے علاوہ میری اہلیہ کے پاس تقریباً ایک تولہ سونا بھی ہے۔ کیا اس رقم اور سونے پر مجھ پر زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہوگی یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر کسی کے پاس صرف سونا ہو تو ساڑھے سات تولہ سونا اور صرف چاندی ہو تو ساڑھے باون تولہ چاندی، یا ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر نقدی یا سامانِ تجارت ہو یا یہ سب ملا کر یا ان میں سے بعض ملا کر ان کی مجموعی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر بنتی ہو تو ایسے شخص پر سال پورا ہونے پر قابلِ زکوٰۃ مال کی ڈھائی فیصد زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہے، نیز واضح رہے کہ زکوۃ کا مدار ساڑھے سات تولے سونے پر اس وقت ہے، جب اس کے ساتھ چاندی یا مالِ تجارت یا نقد رقم میں سے کوئی چیز نہ ہو، لیکن اگر سونے کے ساتھ ان چیزوں میں سے کوئی ایک چیز بھی ہو تو زکوۃ کا مدار ساڑھے باون تولہ چاندی ہے۔اگر کسی کے پاس اتنی مالیت نہیں تو اس پر زکوٰۃ لازم نہیں ۔
عورت کو مہر میں دیا گیا سونا عورت کی ملکیت ہے، شوہر کی نہیں۔
لہذا پوچھی گئی صورت میں چونکہ مذکور شخص کے ساتھ صرف دو لاکھ روپے ہیں نقدی ہے جو نصاب سے کم ہے اس لیے اس شخص پر زکوٰۃ فرض نہیں ۔

حوالہ جات

*الدرالمختار:(259/2،ط: دارالفكر)*
(وسببه) أي سبب افتراضها (ملك نصاب حولي) نسبة للحول لحولانه عليه (تام) بالرفع صفة ملك، خرج مال المكاتب.

*الشامية:(259/2،ط: دارالفكر)*
(قوله ملك نصاب) فلا زكاة في سوائم الوقف والخيل المسبلة لعدم الملك، ولا فيما أحرزه العدو بدارهم لأنهم ملكوه بالإحراز عندنا خلافا للشافعي بدائع، ولا فيما دون النصاب. مطلب الفرق بين السبب والشرط والعلة.

*الهندية:(179/1،ط:دارالفكر)*
‌وتضم ‌قيمة العروض إلى الثمنين والذهب إلى الفضة قيمة كذا في الكنز. حتى لو ملك مائة درهم خمسة دنانير قيمتها مائة درهم تجب الزكاة عنده خلافا لهما، ولو ملك مائة درهم وعشرة دنانير أو مائة وخمسين درهما وخمسة دنانير أو خمسة عشر دينارا أو خمسين درهما تضم إجماعا كذا في الكافي. ولو كان له مائة درهم وعشر دنانير قيمتها أقل من مائة درهم تجب الزكاة عندهما وعند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - اختلفوا فيه والصحيح أنه تجب كذا في محيط السرخسي.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
23
فتوی نمبر 2303کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --