چونکہ میں ایک طالب علم ہوں، میں اپنے مستقبل کے لیے کچھ پیسہ سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہوں تو مجھے کہاں سرمایہ کاری کرنی چاہیے؟ کیا Tata Ethical Fund، Taurus Ethical Fund، اور Quantum Ethical Fund حلال (Shariah-compliant) مِیوچل فنڈز ہیں؟میں کچھ کمپنیوں میں بھی سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہوں تو میں کہاں چیک کروں کہ وہ کمپنیاں حلال اور شریعت کے مطابق ہیں؟ (اگر ممکن ہو تو مجھے کوئی ایپ بھی بتائیں)۔اگر ممکن ہو تو مجھے اصول بھی بتائیں کہ میں خود کیسے چیک کروں کہ کوئی کمپنی شریعت کے مطابق ہے۔
واضح رہے کہ اگر کوئی شخص اسٹاک ایکسچینج،کسی کمپنی کے ذریعے شیئر خریدتا اور فروخت کرتا ہے، یا کسی کمپنی میں انویسٹ کرتا ہے اور یہ سارا معاملہ شرعی اصولوں کے مطابق ہوتا ہے تو ایسی سرمایہ کاری جائز ہے اور اس سے حاصل ہونے والا منافع بھی حلال شمار ہوتا ہے۔
وہ شرائط یہ ہیں :
1 : کمپنی کا کام حلال ہو، یعنی اس کا کاروبار سود، جوا، شراب، حرام خوراک یا فحاشی وغیرہ پر مشتمل نہ ہو۔
2 :کمپنی کے پاس حقیقی اثاثے ہوں، صرف کیش یا نقدی پر مشتمل کمپنی میں شیئر خریدنا درست نہیں، ورنہ فیس ویلیو (Face Value) کے برابر رقم کے ساتھ ہی خرید و فروخت جائز ہوگی۔
3 : منافع فکس نہ ہو، ایک خاص مقرر رقم کا منافع طے کرنا سود ہے، صرف منافع کا فیصد (Profit % ) طے کرنا جائز ہے۔
4 : نفع اور نقصان دونوں میں حصہ داری ہو، اگر صرف منافع لینا ہو اور نقصان نہ ہو تو یہ جائز نہیں۔
5 : شیئر پر قبضہ ہونے کے بعد ہی بیچنا جائز ہے، یعنی آپ اس کے مالک بن جائیں اور اس کا نفع و نقصان آپ کے ذمے آئے، پھر آگے فروخت درست ہے۔
اگر یہ سب شرائط ان کمپنیوں میں موجود ہوں یا وہ مستند علماء کی شریعت بورڈ کی نگرانی میں چل رہی ہوں تو ان میں سرمایہ کاری جائز ہے، ورنہ جائز نہیں۔
ہماری تحقیق کے مطابق کوئی ایسی ایپ موجود نہیں، جس کے ذریعے سے کسی کمپنی کے شریعہ کمپلائنٹ ہونے کا یقینی پتہ لگایا جا سکے ۔
*القرآن الكريم:* *2:275*
وأحل الله البيع و حرم الربا.
*الصحيح المسلم:1161/3،الرقم: 1526،ط: دار احیاء التراث بیروت)*
عن عبد الله بن عمر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: « من اشترى طعاما، فلا يبعه حتى يستوفيه ويقبضه ».
*مسند أحمد:(42/18، الرقم:11460،ط:مؤسسة الرسالة)*
عن طارق بن شهاب، قال: أول من قدم الخطبة فقال أبو سعيد الخدري: أما هذا فقد قضى ما عليه، سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " من رأى منكم منكرا، فليغيره بيده،فإن لم يستطع فبلسانه، فإن لم يستطع فبقلبه، وذلك أضعف الإيمان " ..
*الهندية: (319/2،ط: دارالفکر)*
"وأما شرط جوازها فکون رأس المال عیناً حاضراً أو غائباً عن مجلس العقد لکن مشاراً إلیه، والمساواة فی رأس المال لیست بشرط،ویجوز التفاضل فی الربح مع تساویهما فی رأس المال كذا في محيط السرخسي.
*الشامية: (166/5،ط: دارالفکر)*
"وفي الأشباه: كل قرض جر نفعاًحرام، فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن".
*الموسوعة الفقهية:(290/1،ط:دارالسلاسل)*
"الإجارة على المنافع المحرمة كالزنى والنوح والغناء والملاهي محرمة، وعقدها باطل لايستحق به أجرة . ولايجوز استئجار كاتب ليكتب له غناءً ونوحاً؛ لأنه انتفاع بمحرم ... ولايجوز الاستئجار على حمل الخمر لمن يشربها، ولا على حمل الخنزير.