زخم سے مسلسل خون ،پیپ نکلنے کی صورت میں نماز اور کپڑوں کا حکم

فتوی نمبر :
1704
عبادات / نماز /

زخم سے مسلسل خون ،پیپ نکلنے کی صورت میں نماز اور کپڑوں کا حکم

حضرت ایک مسئلہ پوچھنا تھا کہ ایک بندے نے آپریشن کیا ہے اور اس کے زخم سے پیپ اور خون نکل رہا ہے اور اس نے وضو بھی کیا پھر بھی خون اور پیپ نکل رہا ہے اس کے ساتھ نماز ہو گی یا نہیں ہوگی ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر کسی شخص کے زخم سے خون اس تسلسل سے آتا ہو کہ وہ مکمل پاکی کی حالت میں وضو کرکے ایک فرض نماز بھی ادا نہیں کرسکتا، یعنی اسے اتنی مہلت بھی نہیں ملتی کہ نماز پڑھ سکے، تو شرعاً وہ شخص معذور کہلاتا ہے۔ جب ایک بار یہ عذر ثابت ہوجائے تو اس کے بعد ہر نماز کے وقت میں اگر کسی نہ کسی درجے میں خون جاری رہے، تو وہ شخص معذور کے حکم میں رہے گا، یہاں تک کہ پورے وقت میں خون آنا بالکل بند ہوجائے،معذور ہر نماز کے وقت نیا وضو کرے گا اور اس وقت کے ختم ہونے تک اسی وضو سے نماز اور تلاوت وغیرہ کرسکتا ہے،بشرطیکہ اس عذر کے علاوہ کوئی اور ناقض وضو پیش نہ آیا ہو، وقت ختم ہونے کے بعد دوبارہ وضو کرے گا۔
واضح رہے کہ اگر زخم سے مسلسل خون بہہ رہا ہو اور نماز کے دوران دوبارہ نکلنے کا امکان ہو تو جسم یا کپڑوں پر لگے خون کو دھونا واجب نہیں، چاہے مقدار درہم سے زیادہ ہو۔ لیکن اگر دھونے کے بعد خون دوبارہ نہ نکلے تو دھونا ضروری ہے، ورنہ نماز نہیں ہوگی، بہتر ہے کہ زخم پر پٹی باندھ لی جائے، اور اگر وہ وضو کے اعضا پر ہو تو پٹی پر مسح کرلیا جائے تاکہ خون باہر نہ لگے۔
لہذا پوچھی گئی صورت میں چونکہ یہ شخص معذور ہے، لہذا ہر نماز کے لیے الگ وضو کرے اور اگر خون نکلے تو نیا وضو کرنے کی ضرورت نہیں۔

حوالہ جات

*الشامية:(305/1،ط: دارالفكر)*
(قوله: وحكمه) أي: العذر أو صاحبه (قوله: الوضوء) أي: مع القدرة عليه وإلا فالتيمم (قوله: لا غسل ثوبه) أي: إن لم يفد كما يأتي ونحوه (لكل فرض) اللام للوقت كما في - ﴿لدلوك الشمس﴾ [الإسراء: ٧٨]- (ثم يصلي) به (فيه فرضا ونفلا) فدخل الواجب بالأولى (فإذا خرج الوقت بطل) أي: ظهر حدثه السابق، حتى لو توضأ على الانقطاع ودام إلى خروجه لم يبطل بالخروج ما لم يطرأ حدث آخر أو يسيل كمسألة مسح خفه.وأفاد أنه لو توضأ بعد الطلوع ولو لعيد أو ضحى لم يبطل إلا بخروج وقت الظهر.(وإن سال على ثوبه) فوق الدرهم (جاز له أن لا يغسله إن كان لو غسله تنجس قبل الفراغ منها) أي: الصلاة (وإلا) يتنجس قبل فراغه (فلا) يجوز ترك غسله، هو المختار للفتوى،

*الهندية:(41/1،ط: دارالفكر)*
(ومما يتصل بذلك أحكام المعذور) شرط ثبوت العذر ابتداء أن يستوعب استمراره وقت الصلاة كاملا وهو الأظهر كالانقطاع لا يثبت ما لم يستوعب الوقت كله حتى لو سال دمها في بعض وقت صلاة فتوضأت وصلت ثم خرج الوقت ودخل وقت صلاة أخرى وانقطع دمها فيه أعادت تلك الصلاة لعدم الاستيعاب....وشرط بقائه أن لا يمضي عليه وقت فرض إلا والحدث الذي ابتلي به يوجد فيه هكذا في التبيين،
المستحاضة ومن به سلس البول أو استطلاق البطن أو انفلات الريح أو رعاف دائم أو جرح لا يرقأ يتوضئون لوقت كل صلاة ويصلون بذلك الوضوء في الوقت ما شاءوا من الفرائض والنوافل هكذا في البحر الرائق.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
23
فتوی نمبر 1704کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --