السلام علیکم !
ایک آن لائن کام ہے جس میں شمولیت کرنے والے کو ٹاسک دیا جاتا ہے کہ آپ نے مخصوص ہوٹلز کی بزنس پروفائلز پر ریویو دینا ہے اور اسٹار کے ذریعے رینکنگ کرنی ہے، جس کے بدلے آپ کو پیسے ملیں گے، مثال کے طور پر دس ہوٹلز کے ریویو کرنے پر 300 روپے ملیں گے تو کیا یہ صحیح ہے،یا حرام ہے؟
ہوٹلز اور مختلف بزنسز کی پروفائلز وزٹ کرنا اور اس پر ریویو دینا، ایسی منفعت نہیں جو اصلاً مقصود ہو اور شرعاً اس کی اجرت لی جا سکے، بلکہ یہ کام اکثر دھوکہ دہی کے لیے ہوتا ہے، مثلاً ویب سائٹ پر غلط طریقے سے ویورز لا کر گوگل ایڈسینس، ریٹ کرنے والی کمپنیوں اور عوام کو بھی دھوکہ دیا جاتا ہے، لہذا شرعاً یہ کام کرنا اور اس پر کمیشن لینا جائز نہیں، اس سے اجتناب لازم ہے۔
*سنن الترمذي:(3/ 615،ط:دارالغرب،بيروت)*
عن عبد الله بن عمرو قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الراشي والمرتشي»: هذا حديث حسن صحيح.
*الشامية: (6/ 4،ط:دارالفكر)*
«وشرعا (تمليك نفع) مقصود من العين (بعوض) حتى لو استأجر ثيابا أو أواني ليتجمل بها أو دابة ليجنبها بين يديه أو دارا لا ليسكنها أو عبدا أو دراهم أو غير ذلك لا ليستعمله بل ليظن الناس أنه له فالإجارة فاسدة في الكل، ولا أجر له لأنها منفعة غير مقصودة من العين...قوله مقصود من العين) أي في الشرع ونظر العقلاء، بخلاف ما سيذكره فإنه وإن كان مقصودا للمستأجر لكنه لا نفع فيه وليس من المقاصد الشرعية، وشمل ما يقصد ولو لغيره لما سيأتي عن البحر من جواز استئجار الأرض مقيلا ومراحا، فإن مقصوده الاستئجار للزراعة مثلا، ويذكر ذلك حيلة للزومها إذا لم يمكن زرعها تأمل.
*مجلة مجمع الفقه الإسلامي:(5/ 1931 ،ط:الموتمر الاسلامي)*
«ومقتضى هذين التعريفين أن المال مقصور على الأعيان المادية، فلا يشمل المنافع والحقوق المجردة، ولذلك صرح الفقهاء الحنفية بعدم جواز بيع المنافع والحقوق المجردة، وقد صرحوا بأن بيع حق التعلي لا يجوز.