گاہک اپنے بقیہ پیسے دوکان میں بھول جائے تو کیا حکم ہے ؟

فتوی نمبر :
1592
معاملات / مالی معاوضات /

گاہک اپنے بقیہ پیسے دوکان میں بھول جائے تو کیا حکم ہے ؟

مفتی صاحب!
ميری دوکان ہے ، میرے پاس ایک گاہک کے پچاس روپے بقیہ رہ گئے ہیں، لیکن مجھے اس شخص کے بارے میں علم نہیں ہے، اب میں ان پیسوں کا کیا کروں کیا صدقہ کروں یا خود استعمال کر سکتا ہوں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

پوچھی گئی صورت میں ان پیسوں کی حیثیت’’لقطہ‘‘کی ہے اور لقطہ کا حکم یہ ہے کہ اس کی گمشدگی کا اعلان کیا جائے اور مالک تک پہنچانے کی کوشش کی جائے، اگر مالک نہ ملے اور حفاظت دشوار ہو تو وہ چیز کسی مستحق زکوۃ کو صدقہ کر دی جائے۔
مزید یہ کہ اگر پانے والا خود فقیر ہو تو وہ اس چیز کو اپنے استعمال میں لا سکتا ہے، تاہم صدقہ کرنے یا فقیر ہونے کی وجہ سے خود استعمال کرنے کی صورت میں اگر بعد میں مالک آ جائے تو مالک کو اختیار ہوگا، اگر واپس لینا چاہے تو اسے آپ پیسے ادا کریں گے، اگر وہ کیے گئے صدقہ پر راضی ہے تو اسے ثواب مل جائے گا۔

حوالہ جات

*رد المحتار:(287/4 ،ط: دار الفکر)*
( وعرف ) أي نادى عليها حيث وجدها وفي المجامع ( إلى أن علم أن صاحبها لا يطلبها أو أنها تفسد إن بقيت كالأطعمة ) والثمار ( كانت أمانة ) لم تضمن بلا تعد فلو لم يشهد مع التمكن منه أو لم يعرفها ضمن إن أنكر ربها أخذه للرد وقبل الثاني قوله بيمينه وبه نأخذ حاوي وأقره المصنف وغيره ( ولو من الحرم أو قليلة أو كثيرة ) فلا فرق بين مكان ومكان ولقطة ولقطة ( فينتفع) الرافع ( بها لو فقيرا وإلا تصدق بها على فقير ولو على أصله وفرعه وعرسه إلا إذا عرف أنها لذمي فإنها توضع في بيت المال ) تاترخانية و في القنية لو رجا وجود المالك وجب الإيصاء ( فإن جاء مالكها ) بعد التصدق ( خير بين إجازة فعله ولو بعد هلاكها) وله ثوابها ( أو تضمينه ).

*الهداية في شرح بداية المبتدي: (2 / 418،ط: دار احیاء التراث العربي)*
قال: فإن جاء صاحبها وإلا تصدق بها إيصالا للحق إلى المستحق وهو واجب بقدر الإمكان وذلك بإيصال عينها عند الظفر بصاحبها وإيصال العوض وهو الثواب على اعتبار إجازة التصدق بها وإن شاء أمسكها رجاء الظفر بصاحبها.

*الهندية:(289/2 ،ط:دارالفکر)*
ویعرف الملتقط اللقطۃ فی الاسواق والشوارع مدۃ یغلب علی ظنہ ان صاحبہا لا یطلبہا بعد ذلک ہو الصحیح کذا فی مجمع البحرین.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
30
فتوی نمبر 1592کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --