اسلامی بینک میں سیونگ بنک اکاونٹ اوپن کروانا شرعی لحاظ سے جائز ہے ؟آج کل تمام علماء کی رائے ہے کہ جائز ہے، لیکن اس پر منافع ملتا ہے اس کا طریقہ کار کیا ہے؟ کیا وہ سود ہے ؟
جبکہ تمام علما نے اپنی اس پر رائے دے دی ہے کہ اسلامی سیونگ بنک اکاؤنٹ جائز ہے ۔
اسلامی بینک میں اگر تمام امور مستند علماء کرام کے زیر نگرانی سر انجام دیے جا رہے ہوں تو اس بینک میں سیونگ اکاؤنٹ کھلوانا جائز ہے، اسلامی بینک میں جو رقم جمع کروائی جاتی ہے اس کی حیثیت مضاربت کی ہوتی ہے، اور اس پر ملنے والا منافع بھی فیصد کے حساب سے دیا جاتا ہے، لہذا اسلامی بینک میں سیونگ اکاؤنٹ کھلوانے کی گنجائش ہے، تاہم جو شخص خود کام کر سکتا ہو اسے چاہیے کہ بینک میں سیونگ اکاؤنٹ کھلوانے کے بجائے خود کاروبار کرے۔
*بحوث في قضايا فقهية معاصرة:(363،ط: دارالعلوم کراچی)*
أما الأموال المودعة في المصارف الإسلامية، فإن ما أودع في حساباتها الجارية، فإنه ينطبق عليه ما ذكرنا في الحسابات الجارية للبنوك التقليدية سواء بسواء، فهي قروض قدمها أصحابها إلى البنك، وهي مضمونة عليه، وتجري عليها جميع أحكام القرض: ولكن يختلف تكييف الودائع الثابتة وحسابات التوفير في البنوك الإسلامية من تكييفها في البنوك التقليدية، فإن هذه الودائع قروض أيضا في البنوك التقليدية قدمت إليها على أساس الفائدة الربوية، ولكن البنوك الإسلامية لا تعمل على أساس الفائدة الربوية، بل إنما تقبل هذه الودائع على أن يشاركها أصحابها في ربحها إن كان هناك ربح، فليست هذه الودائع في البنوك الإسلامية قروضا، وإنما هي رأس مال في المضاربة، وإنها تستحق حصة مشاعة من ربح البنك، وتحتمل حصة مشاعة من الخسران إن كان هناك خسران، وليست مضمونة على البنك، فلا يضمن البنك أصلها ولا ربحها، إلا إذا حصل هناك تعد من قبل البنك، فإنه يضمن بقدر التعدي.