سونا قسطوں میں خریدنا

فتوی نمبر :
1514
معاملات / مالی معاوضات /

سونا قسطوں میں خریدنا

السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ۔
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ آج کل سونار کی طرف سے عوام کو یہ سھولت دی جارہی ہے کہ وہ خالص سونا جو بلاک کی صورت میں ہوتا ہے، اس سونے کے پانچ گرام کی بکنگ کروائی جائے، جس کی قیمت تقریباً دو لاکھ روپے ہے اور ایڈوانس میں پچاس ہزار روپے ادا کردیں (یعنی جتنے پیسے آپ کے پاس ہیں وہ ادا کر دیں کوئی متعین رقم نہیں ہے) اور پھر باقی رقم اپنی مرضی سے جتنی چاہیں، جس وقت چاہیں ادا کرتے جائیں ( یعنی جتنی مدت میں بھی چاہیں ) اور جب آپ مکمل ادائیگی کر دیں گے تو وہ سونا آپ کے حوالے کردیا جائے گا۔
کیا بیع کی یہ صورت درست اور جائز ہے ؟ قرآن وسنت کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیرا کثیرا والسلام

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سونے کی ادھار خرید و فروخت شرعاً جائز نہیں، بلکہ سونے کا لین دین ہاتھ در ہاتھ یعنی نقد ہونا ضروری ہے، لہٰذا اگر خریدار رقم جمع کرائے اور صرف ریکارڈ میں اس کے نام سونا درج کیا جائے، مگر قبضہ نہ دیا جائے تو یہ طریقہ ناجائز ہے۔
لہذا پوچھی گئی صورت میں چونکہ سونا صرف ریکارڈ میں لکھا جارہا ہے، قبضہ نہیں کرایا جا رہا تو یہ جائز نہیں ۔
البتہ درست صورت یہ ہے کہ ابتدا میں صرف وعدہ کیا جائے کہ اتنی رقم مکمل ہونے پر اتنا سونا دیا جائے گا، جب پوری رقم ادا ہو جائے، تب عقد کر کے سونا حوالے کیا جائے، اس طرح معاملہ شرعاً درست ہوگا۔

حوالہ جات

*الهندية:(217/3،ط: دارالفكر)*
(وأما شرائطه) فمنها قبض البدلين قبل الافتراق كذا في البدائع سواء كانا يتعينان كالمصوغ أو لا يتعينان كالمضروب أو يتعين أحدهما ولا يتعين الآخر كذا في الهداية وفي فوائد القدوري المراد بالقبض ههنا القبض بالبراجم لا بالتخلية يريد باليد.

*بدائع الصنائع:(215/5،ط:دار الكتب العلمية)*
وأما الشرائط (فمنها) قبض البدلين قبل الافتراق لقوله: عليه الصلاة والسلام في الحديث المشهور «والذهب بالذهب مثلا بمثل يدا بيد والفضة بالفضة مثلا بمثل يدا بيد» .
وروي عن أبي سعيد الخدري أن رسول الله ﷺ قال: «لا تبيعوا الورق بالورق إلا مثلا بمثل، ولا تشفوا بعضها على بعض ولا تبيعوا منها شيئا غائبا بناجز» .

*الدر المختار:(259/5،ط: دارالفكر)*
(ويفسد) الصرف (بخيار الشرط والأجل) لإخلالهما بالقبض (ويصح مع إسقاطهما في المجلس) لزوال المانع وصح خيار رؤية وعيب في مصوغ لا نقد.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
30
فتوی نمبر 1514کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --