کیا فرماتے ہیں مفتیان کرا م اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کے حق مہر کا سونا اس کی اجازت کے بغیر فروخت کردیا ہے تواس کا کیا حکم ہے ؟
واضح رہے کہ مہر بیوی کا حق ہے اور اس میں کسی کو اس کے اجازت کے بغیر تصرف کا اختیار نہیں ہے ،لہذا پوچھی گئی صورت میں شوہر کے بیچے ہوئے سونے کی بیع کا حکم بیوی کی اجازت پرموقوف ہے اگر بیوی اجازت دیتی ہے تو بیع جائز ہےاور اگر وہ اجازت نہیں دیتی تو بیع کو فسخ کرنا لازم ہے ۔
مسند أحمد: (34/ 299 ، رقم الحديث : 20695، ط: مؤسسة الرسالة )
عن أبي حرة الرقاشي، عن عمه، قال: كنت آخذا بزمام ناقة رسول الله صلى الله عليه وسلم في أوسط أيام التشريق، أذود عنه الناس، فقال: " يا أيها الناس، هل تدرون في أي يوم أنتم؟... ثم قال: " اسمعوا مني تعيشوا، ألا لا تظلموا، ألا لا تظلموا، ألا لا تظلموا، إنه لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه.
الهندية: (3/ 152، ط: دارالفكر)
إذا باع الرجل مال الغير عندنا يتوقف البيع على إجازة المالك.
البحر الرائق : (6/ 160، ط: دارالكتاب الاسلامي )
قوله (ومن باع ملك غيره فللمالك أن يفسخه، ويجيزه إن بقي العاقدان، والمعقود عليه، وله، وبه لو عرضا) يعني أنه صحيح موقوف على الإجازة بالشرائط الأربعة.