قرآن خوانی

سورۂ حج کےدوسرے سجدے کا حکم

فتوی نمبر :
1448
عبادات / نوافل عبادات / قرآن خوانی

سورۂ حج کےدوسرے سجدے کا حکم

ایک مسئلہ معلوم کرنا تھا کہ قرآن مجید کے سترھویں پارے (پارہ نمبر 17) کے آخر میں ایک آیتِ سجدہ آتی ہے۔
بعض لوگ کہتے ہیں کہ قرآنِ کریم میں کل 14 سجدے ہیں تو یہ جو سترھویں پارے کے آخرمیں سجدہ آتا ہے، کیا یہ اضافی سجدہ ہے یا انہی 14 سجدوں میں شامل ہے؟اور اس آیت پر سجدہ کرنا واجب ہے یا نہیں؟براہِ کرم تفصیلاً وضاحت فرما دیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

فقہائے احناف کے نزدیک سورۂ حج کا دوسرا سجدہ، سجدۂ تلاوت نہیں، بلکہ اس سے نماز کا سجدہ مراد ہے، لہذا اس آیت مبارکہ کی تلاوت کرنے سے سجدۂ تلاوت واجب نہیں ہوگا۔

حوالہ جات

*مرقاۃ المفاتیح:( 813/2، ط: دار الفکر بیروت)*
قال الطيبي: واختلفوا في عدة سجدات القرآن۔۔۔ وقال أبو حنيفة: أربع عشرة ، فأسقط الثانية من الحج، وأثبت سجدة (ص).

*بدائع الصنائع:(193/1،ط:دارال الكتب العلمية)*
واما بیان مواضع السجدۃ فی القرآن فنقول انھا فی اربعۃ عشر موضعا من القرآن اربع فی النصف الاول فی اخر الاعراف وفی الرعد وفی النحل وفی بنی اسرائیل وعشر فی النصف الاخر فی مریم وفی الحج فی الاولی وفی الفرقان وفی النمل وفی الم تنزیل السجدۃ وفی ص وفی حم السجدۃ وفی النجم وفی اذا السماء انشقت وفی اقرأ ...... فی الحج ھی الاولی والثانیۃ سجدۃ الصلوٰۃ وھوتاویل الحدیث وھذا لان السجدۃ متی قرنت بالرکوع کانت عبارۃ عن سجدۃ الصلوٰۃ کما فی قولہ تعالیٰ واسجدی وارکعی.

*وفيه ايضا:(193/1،ط: دارالكتب العلمیة)*
وقد اختلف العلماء في ثلاثة مواضع منها: أحدها، أن في سورة الحج عندنا سجدة واحدة وعند الشافعي سجدتان.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
37
فتوی نمبر 1448کی تصدیق کریں
-- متعلقه موضوعات --