قرآن خوانی

مسجد میں قرآن کریم پڑھانا

فتوی نمبر :
128
عبادات / نوافل عبادات / قرآن خوانی

مسجد میں قرآن کریم پڑھانا

سوال : کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مسجد میں بچوں کو پڑھانا اور اس پر اجرت اور تنخواہ لینا جائز ہے یا نہیں ؟جب کہ یہاں بعض علماء منع کرتے ہیں ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ


اگر مسجد کے علاوہ کہیں اور قرآن پڑھانے کی جگہ نہ ہو تو مجبوری کی حالت میں مسجد کے اندر بچوں کو قرآن پڑھانا جائز ہے، لیکن خیال رکھنا ضروری ہے کہ بچے مسجد کا ادب کریں، وہاں گندگی یا شور شرابہ نہ ہو؛ اس لیے ان کی اچھی طرح نگرانی کی جائےاور جہاں تک قرآن پڑھانے پر اجرت (تنخواہ یا فیس) لینے کا تعلق ہے تو شریعت میں یہ بالکل جائز ہے، اس میں کوئی گناہ یا ممانعت نہیں ہے۔

حوالہ جات

الهندية:(1/ 110، ط:دارالفكر )
وأما المعلم الذي ‌يعلم ‌الصبيان بأجر إذا جلس في المسجد ‌يعلم ‌الصبيان لضرورة الحر أو غيره لا يكره .




واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
172
فتوی نمبر 128کی تصدیق کریں
-- متعلقه موضوعات --