ایپ میں انویسٹ کرنا اور اس کے ذریعے ایپس ڈاؤن لوڈ کرنے پر کمیشن حاصل کرنا

فتوی نمبر :
1399
معاملات / مالی معاوضات /

ایپ میں انویسٹ کرنا اور اس کے ذریعے ایپس ڈاؤن لوڈ کرنے پر کمیشن حاصل کرنا

السلام علیکم !
مسئلہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کوئی بھی ایپ ڈاؤن لوڈ کرے اور اس کے بدلے اس سے تین ہزار رقم وصول کی جائے،
اس کے بعد اسے ٹاسک دیا جائے کہ اپ نے مزید ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے ہیں اور ہر ایپ کے بدلے آپ کو مزید پیسے ملیں گے اور جو شروع میں تین ہزار روپے وصول کیے تھے وہ بھی اپ کو مہینے کے آخر میں ملیں گے تو کیا یہ صحیح ہے،یا حرام ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

ایپ انسٹال کر کے جو مختلف ایپلیکیشنز ڈاؤن لوڈ کرنے کے جو ٹاسک ملتے ہیں وہ عموماً ایسی منفعت نہیں جو اصلاً مقصود ہو اور شرعاً اس کی اجرت لی جا سکے،بلکہ یہ کام اکثر دھوکہ دہی کے لیے ہوتا ہے، مثلاً ویب سائٹ اور ایپ پر غلط طریقے سے ویورز لا کر گوگل ایڈسینس اور اشتہار دینے والی کمپنیوں کو بھی دھوکہ دیا جاتا ہے، لہذا شرعاً یہ کام کرنا اور اس پر کمیشن لینا جائز نہیں، نیز اس کام کے لیے شروع میں انویسٹمنٹ کی جاتی ہے، جو در اصل اجارے (ملازمت) کے حق کو خریدنا ہے، یہ حق مجرد کی بیع ہے، جو کہ رشوت کے زمرے میں آتی ہے۔ یہ جائز نہیں،لہذا اس سے اجتناب لازم ہے۔

حوالہ جات

*سنن الترمذي:(3/ 615،ط:دارالغرب،بيروت)*
عن عبد الله بن عمرو قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم ‌الراشي ‌والمرتشي»: هذا حديث حسن صحيح.

*الشامية: (6/ 4،ط:دارالفكر)*
«وشرعا (تمليك نفع) مقصود من العين (بعوض) حتى لو استأجر ثيابا أو أواني ليتجمل بها أو دابة ليجنبها بين يديه أو دارا لا ليسكنها أو عبدا أو دراهم أو غير ذلك لا ليستعمله بل ليظن الناس أنه له فالإجارة فاسدة في الكل، ولا أجر له لأنها منفعة غير مقصودة من العين...قوله مقصود من العين) ‌أي ‌في ‌الشرع ‌ونظر ‌العقلاء، بخلاف ما سيذكره فإنه وإن كان مقصودا للمستأجر لكنه لا نفع فيه وليس من المقاصد الشرعية، وشمل ما يقصد ولو لغيره لما سيأتي عن البحر من جواز استئجار الأرض مقيلا ومراحا، فإن مقصوده الاستئجار للزراعة مثلا، ويذكر ذلك حيلة للزومها إذا لم يمكن زرعها تأمل.

*مجلة مجمع الفقه الإسلامي:(5/ 1931 ،ط:الموتمر الاسلامي)*
«ومقتضى هذين التعريفين ‌أن ‌المال ‌مقصور ‌على ‌الأعيان ‌المادية، فلا يشمل المنافع والحقوق المجردة، ولذلك صرح الفقهاء الحنفية بعدم جواز بيع المنافع والحقوق المجردة، وقد صرحوا بأن بيع حق التعلي لا يجوز.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
35
فتوی نمبر 1399کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --