’’قیامت میں حساب و کتاب آدھے دن میں ہوگا ‘‘اس سے دنیاوی دن مراد ہے یا اُخروی‘‘

فتوی نمبر :
1385
قرآن و حدیث / تفسیر و احکام القرآن /

’’قیامت میں حساب و کتاب آدھے دن میں ہوگا ‘‘اس سے دنیاوی دن مراد ہے یا اُخروی‘‘

السلام علیکم
"ایت وان یوما عند ربک کالف سنتہ مما تعدون "۔سورہ حج اب سوال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت مین مخلوق سے حساب ادھی دن میں کرے گا اس ادھی دن سے مراد دنیاکاادھی دن کامقدار مرادھے یا اخرت کا مقدار؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

قرآن و سنت کی تصریحات سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کا دن بے حد طویل ہوگا، جس کی مقدار پچاس ہزار سال کے برابر بیان کی گئی ہے۔
اس دن سے مراد اکثرمفسرین کرام کے نزدیک آخرت کادن ہے۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:’’یہ قیامت کا دن ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے کافروں کے لیے پچاس ہزار سال کے برابر قرار دیا ہے۔‘‘
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشادفرمایا:’’لوگ اپنے رب کے سامنے کھڑے ہوں گے پچاس ہزار سال کے نصف دن کے برابر، مگر یہ دن مؤمن پر اس طرح آسان کردیا جائے گا جیسے سورج کے ڈھلنے سے غروب ہونے تک کا وقت ہوتا ہے۔‘‘
حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:’’ قیامت کے دن کا نصف (آدھا) حصہ بھی گزرنے نہ پائے گا کہ یہ لوگ اور وہ لوگ (یعنی اہلِ جنت اور اہلِ جہنم) اپنے اپنے ٹھکانوں میں جا چکے ہوں گے، پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی:’’إِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَإِلَى الْجَحِيمِ‘‘’’یقیناً ان کا ٹھکانا جہنم ہی کی طرف ہے۔‘‘
علامہ سفارینی(م۱۱۸۸ھ)فرماتے ہیں:’’وقوف (یعنی قیامت کے دن کا ٹھہراؤ) کی مدت پچاس ہزار سال کے ایک دن کا آدھا حصہ ہوگی، پس ٹھہراؤ کی مقدار پچیس ہزار سال کے برابر ہوگی۔‘‘


شیخ عبدالعزیز بن باز(م۱۴۲۰ھ)فرماتے ہیں:’’ "اور وہ (یعنی قیامت کا دن) ایک بہت طویل دن ہوگا جس کی مقدار پچاس ہزار سال کے برابر ہے، ایک لمبا اور عظیم دن، لیکن وہ دن آدھا بھی نہیں گزرے گا کہ اہلِ جنت اپنے اپنے ٹھکانوں تک پہنچ چکے ہوں گے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:’’أَصْحَابُ الْجَنَّةِ يَوْمَئِذٍ خَيْرٌ مُسْتَقَرًّا وَأَحْسَنُ مَقِيلًا‘‘’’اس دن اہلِ جنت کا ٹھکانا سب سے بہتر اور ان کےدوپہر كی آرام گاہ سب سے عمدہ ہوگی۔‘‘
نصف النہار (دوپہر) کے وقت تک وہ اپنے گھروں میں پہنچ چکے ہوں گے، اپنے مقامات پر جا بسے ہوں گے، اور وہاں نعمتوں سے لطف اندوز ہو رہے ہوں گے۔‘‘

حوالہ جات

*تفسير الطبري:(23/ 602 ،ط:دار التربية والتراث)*
حدثني علي، قال: ثنا أبو صالح، قال: ثني معاوية، عن علي، عن ابن عباس، في قوله: (تعرج الملائكة والروح إليه في يوم كان مقداره خمسين ألف سنة) ‌فهذا ‌يوم ‌القيامة، ‌جعله ‌الله ‌على ‌الكافرين ‌مقدار ‌خمسين ‌ألف ‌سنة.

*مسند أبي يعلى :(8/ 270،رقم الحدیث:6025،ط:دار الحديث)*
حدثنا إسماعيل بن عبد الله بن خالد، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا الأوزاعى، عن يحيى بن أبى كثير، حدثنا أبو سلمة، عن أبى هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "يقوم الناس لرب العالمين ‌مقدار ‌نصف ‌يوم ‌من ‌خمسين ‌ألف سنة، فيهون ذلك اليوم على المؤمن كتدلى الشمس للغروب إلى أن تغرب".

*المستدرك على الصحيحين:(2/ 436،رقم الحدیث:3516،ط:دار الكتب العلمية)*
أخبرنا عبد الرحمن بن حمدان الجلاب، بهمدان، ثنا أبو حاتم الرازي، ثنا قبيصة بن عقبة، ثنا سفيان، عن ميسرة بن حبيب، عن المنهال بن عمرو، عن أبي عبيدة، عن ابن مسعود رضي الله عنه قال: ‌لا ‌ينتصف ‌النهار ‌من ‌يوم ‌القيامة ‌حتى ‌يقيل ‌هؤلاء ‌وهؤلاء، ‌ثم ‌قرأ {‌إن ‌مرجعهم ‌لإلى ‌الجحيم} [الصافات: 68] هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يخرجاه.

*تفسير ابن جزي:(2/ 410،ط: شركة دار الأرقم)*
اختلف في هذا اليوم على قولين: ‌أحدهما ‌أنه ‌يوم ‌القيامة والآخر أنه في الدنيا والصحيح أنه يوم القيامة لقول رسول الله صلى الله عليه وسلم في حديث مانع الزكاة: «ما من صاحب ذهب ولا فضة لا يؤدي زكاتها إلا صفحت له صفائح من نار يكوى بها جبينه وجنبه وظهره في يوم كان مقداره خمسين ألف سنة حتى يقضى بين العباد» «1» يعني يوم القيامة ثم اختلف هل مقداره خمسون ألف سنة حقيقة؟ وهذا هو الأظهر، أو هل وصف بذلك لشدة أهواله؟ كما يقال: يوم طويل إذا كان فيه مصائب وهموم، وإذا قلنا إنه في الدنيا فالمعنى أن الملائكة والروح يعرجون في يوم لو عرج فيه الناس لعرجوا في خمسين ألف سنة وقيل: الخمسون ألف سنة هي مدة الدنيا والملائكة تعرج وتنزل في هذه المدة، وهذا كله على أن يكون قوله: في يوم يتعلق بتعرج ويحتمل أن يكون في يوم صفة للعذاب، فيتعين أن يكون اليوم يوم القيامة والمعنى على هذا مستقيم.

*البحور الزاخرة في علوم الآخرة:(2/ 759،ط:دار العاصمة)*
أنَّ ‌مدّةَ ‌الوقوفِ ‌نصفُ ‌يومٍ ‌من ‌خمسين ‌ألف ‌سنة فيكون مقدارُ الوقوفِ خمس وعشرين ألف سنة.

*مجموع فتاوى ومقالات متنوعة لابن باز:(28/ 36،ط:رئاسة إدارة البحوث العلمية والإفتاء)*
وهو يوم طويل مقداره خمسون ألف سنة، يوم طويل عظيم، لكن لا ينتصف إلا وقد صار أهل الجنة إلى منازلهم، قال تعالى: {أَصْحَابُ الْجَنَّةِ يَوْمَئِذٍ خَيْرٌ مُسْتَقَرًّا وَأَحْسَنُ مَقِيلًا} عند نصف النهار قد وصلوا إلى منازلهم، وتبوءوا منازلهم، وتنعموا فيها.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
96
فتوی نمبر 1385کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --