ڈیجیٹل کیمروں کو کرایہ پر دینےکا حکم

فتوی نمبر :
1372
معاملات / مالی معاوضات /

ڈیجیٹل کیمروں کو کرایہ پر دینےکا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام ا س مسئلہ کےبارےمیں کہ میرے پاس ڈی ایس ایل آر کیمرے ہیں ، کیا ان کیمروں کو کرایہ پر دینا صحیح ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ ڈیجیٹل کمروں کی تصویر کے حکم کے بارے میں علماء کرام کے آراء مختلف ہیں ، جو حضرات ڈیجیٹل کیمرے کے تصویر کو عام تصویر کے حکم میں نہیں مانتے ، ان کے ہاں تو اس طرح کے کیمروں کو کرایہ پر دینا جائز ہے ، البتہ جو علمائے کرام اسے عام تصویر کے حکم میں مانتے ہیں ان کے نزدیک اس طرح کے کیمروں کو کرایہ پر دینا جائز نہیں ، اس لیے بہتر یہ ہے کہ اس کاروبار کے بجائے کوئی اور کاروبار اختیار کیا جائے اور جتنا ممکن ہو اس سے بچا جائے ۔

حوالہ جات

الشامية : (6/ 55، ط: دارالفكر)
(قوله لا تصح الإجارة ‌لعسب ‌التيس) ؛ لأنه عمل لا يقدر عليه وهو الإحبال.مطلب في الاستئجار على المعاصي (قوله مثل الغناء) بالكسر والمد الصوت، وأما المقصور فهو اليسار صحاح (قوله والنوح) البكاء على الميت وتعديد محاسنه (قوله والملاهي) كالمزامير والطبل، وإذا كان الطبل لغير اللهو فلا بأس به كطبل الغزاة والعرس لما في الأجناس: ولا بأس أن يكون ليلة العرس دف يضرب به ليعلن به النكاح.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
58
فتوی نمبر 1372کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --