نماز جنازہ

نامکمل لاش کو غسل اور نمازِ جنازہ دینے کا حکم

فتوی نمبر :
1292
عبادات / جنائز / نماز جنازہ

نامکمل لاش کو غسل اور نمازِ جنازہ دینے کا حکم

میرا سوال یہ ہے کہ ایک شخص نے قبرستان کی جگہ پر ایک مکان پر قبضہ کر کے اس میں رہائش اختیار کر لی تھی۔ وہ شخص اکیلا اسی مکان میں رہتا تھا، اس کی فیملی گاؤں میں تھی۔ کچھ دن بعد اس مکان سے شدید بدبو آنے لگی۔ جب لوگوں نے دروازہ توڑا تو اندر ایک لاش ملی جس کا زیادہ تر حصہ غائب تھا .صرف پاؤں کا حصہ موجود تھا، سر، سینہ اور جسم کا اوپری حصہ موجود نہیں تھا۔
اب معلوم یہ کرنا ہے کہ ایسی حالت میں کیا اس لاش کو غسل دیا جائے گا؟ اور کیا اس پر نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

پوچھی گئی صورت چونکہ لاش کا زیادہ تر حصہ غائب ہے اور صرف تھوڑا سا حصہ (جیسے پاؤں وغیرہ) باقی ہے تو نہ اس کو غسل دیا جائے گا اور نہ اس پر نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی۔

حوالہ جات

*البحر الرائق:(2/ 187،ط:دار الكتاب الإسلامي)*
وفي القنية ‌وجد ‌رأس ‌آدمي لا يغسل، ولا يصلى عليه،

*الشامیة:(2/ 199)*
(‌وجد ‌رأس ‌آدمي) أو أحد شقيه (لا يغسل ولا يصلى عليه) بل يدفن إلا أن يوجد أكثر من نصفه ولو بلا رأس.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
58
فتوی نمبر 1292کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --