فلٹر شدہ پانی بیچنے کا شرعی حکم

فتوی نمبر :
1258
معاملات / مالی معاوضات /

فلٹر شدہ پانی بیچنے کا شرعی حکم

میرا سوال یہ ہے کہ میں نے فِلٹر شدہ پانی فروخت کرنے کے لیے ایک دکان کھولی ہے، میں ٹینکر کے ذریعے پانی خرید کر لاتا ہوں اور پھر اسے فِلٹر کرکے گاہکوں کو بیچتا ہوں، بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ پانی بیچنا شرعاً جائز نہیں ہے۔
کیا اس طرح فِلٹر شدہ پانی فروخت کرنا درست ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ اگر آپ پانی ٹینکر کے ذریعے خرید کر لاتے ہیں یا بورنگ سے نکالتے ہیں، پھر اسے صاف، فِلٹر اور محفوظ کر کے لوگوں کو فروخت کرتے ہیں تو ایسےپانی کو بیچنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں۔

حوالہ جات

*البحر الرائق:(5/ 306،ط:دار الكتاب الإسلامي)*
وفي المحيط ‌بيع ‌الماء في الحياض والآبار لا يجوز إلا إذا جعله في إناء.

*الهندية:(3/ 121،ط:دارالفکر)*
لا يجوز ‌بيع ‌الماء ‌في ‌بئره ونهره هكذا في الحاوي وحيلته أن يؤاجر الدلو والرشاء هكذا في محيط السرخسي فإذا أخذه وجعله في جرة أو ما أشبهها من الأوعية فقد أحرزه فصار أحق به فيجوز بيعه والتصرف فيه كالصيد الذي يأخذه كذا في الذخيرة وكذلك ماء المطر يملك بالحيازة كذا في محيط السرخسي.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
47
فتوی نمبر 1258کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --