اگر کسی شخص نے ایک یا دو پلاٹ خریدے ہوں، جو فی الحال بنجر پڑے ہیں، ان پر ابھی کوئی تعمیر نہیں ہوئی، اور ان کو فروخت کرنے کا بھی ارادہ نہیں ہے بلکہ بعد میں گھر یا دکان بنانے کا ارادہ ہے، تو کیا ان پلاٹوں پر زکوٰۃ لازم ہوگی؟ اگر ہوگی تو کس طرح حساب کیا جائے گا؟
واضح رہے کہ اگر زمین یا پلاٹ گھر تعمیر کرنے یا دکان وغیرہ تعمیر کرنے کی غرض سے خریدا گیا ہو یا خریدتے وقت کوئی نیت ہی نہیں تھی تو اس صورت میں ان پر زکوٰۃ واجب نہیں۔
*درر الحكام: (1/ 172،ط:دار إحياء الكتب العربية)*
(ولا في دور السكنى) تفريع على قوله والحاجة الأصلية (ونحوها) كثياب البدن وأثاث المنزل ودواب الركوب وعبيد الخدمة وكتب العلم لأهله..
*الموسوعة الفقهية:(271/23،ط:دارالسلاسل)*
اتفق الفقهاء على أنه يشترط في زكاة مال التجارة أن يكون قد نوى عند شرائه أو تملكه أنه للتجارة، والنية المعتبرة هي ما كانت مقارنة لدخوله في ملكه؛ لأن التجارة عمل فيحتاج إلى النية مع العمل، فلو ملكه للقنية ثم نواه للتجارة لم يصر لها، ولو ملك للتجارة ثم نواه للقنية وأن لا يكون للتجارة صار للقنية، وخرج عن أن يكون محلا للزكاة ولو عاد فنواه للتجارة لأن ترك التجارة، من قبيل التروك، والترك يكتفى فيه بالنية كالصوم.