ایک کمپنی کی جانب سے ملازم کو ملازمت پر رکھتے وقت بتادیا جاتا ہے کہ یہاں پر کام کی کوئی چھٹی نہیں ہے تمام دن آپ کو کام کے لیے آنا ہوگا لیکن ملازم اپنی ترتیب کے حساب سے چھٹی کے دن باندھے ہوئے ہیں کوئی ایک ملازم کسی دن چھٹی کرتا ہے اور کوئی کسی دن ، مالک کی طرف سے بھی اس پر اعتراض نہیں کیا جاتا اسی طرح قومی مذہبی تہوار کے دنوں میں گودام کی چھٹی ہوتی ہے مثلا عید کے ایام ، یوم آزادی وغیرہ ۔
پوچھنا یہ ہے کہ مذکورہ صورت کا شرعی حکم کیا ہے ؟
واضح رہے کہ ملازمین سے ابتدائے عہد میں جو شرائط طے کیے جائیں ان کی پاسداری کرنا ضروری ہے ، اگر مالکان کی طرف سے ملازمین کو ایک دن چھٹی کی گنجائش دی گئی ہے اور وہ اس پر ناخوش بھی نہیں ہیں تو کوئی مضائقہ نہیں ، نیز اگر قومی ومذہبی تہوار کے ایام کی چھٹی مالکان کی طرف دی گئی ہے تو اس بھی کوئی حرج نہیں ہے ۔
مجلة الأحكام العدلية: (ص86، ط: نور محمد، كراتشي)
(المادة 448) : يشترط في صحة الإجارة رضا العاقدين.
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام: (1/ 501، ط: دار الجيل)
يشترط في صحة الإجارة رضا العاقدين ،رضا العاقدين في صحة العقود شرط.