کسی کی بکری اس شرط پر پالنا کہ اس کی پیدا وار میں دونوں شریک ہوں گے۔

فتوی نمبر :
1148
معاملات / مالی معاوضات /

کسی کی بکری اس شرط پر پالنا کہ اس کی پیدا وار میں دونوں شریک ہوں گے۔

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کسی دوسرے آدمی کو اپنی بکری اس شرط پر پالنے کے لیے دیتا ہے کہ اس بکری کے جو بچے ہوں وہ ہم دونوں میں مشترک ہوں گے ، کیااس طرح معاملہ کرنا جائز ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال میں ذکرکردہ معاملہ شرعاً جائز نہیں ۔

حوالہ جات

الهندية: (4/ 445، ط: دارالفكر)
دفع ‌بقرة ‌إلى ‌رجل على أن يعلفها وما يكون من اللبن والسمن بينهما أنصافا فالإجارة فاسدة .

بدائع الصنائع: (4/ 175، ط: دار الكتب العلمية )
ولا تجوز إجارة الشاة للبنها أو سمنها ‌أو ‌صوفها أو ولدها؛ لأن هذه أعيان فلا تستحق بعقد الإجارة، وكذا إجارة الشاة لترضع جديا أو صبيا لما قلنا .

الفقه الإسلامي وأدلته: (5/ 3804، ط: دارالفكر)
ولا تجوز ‌إجارة ‌الشاة ‌للبنها أو سمنها أو صوفها أو ولدها؛ لأن هذه أعيان، فلا تستحق بعقد الإجارة.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
28
فتوی نمبر 1148کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --