کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی غیر مسلم شادی شدہ عورت مسلمان ہوجائے تو وہ کسی مسلمان سے شادی کرنا چاہے تو اس وہ فورا نکاح کرے گی یا اس پر عدت گزارنا لازمی ہے ؟
واضح رہے کہ تبدیلی مذہب کی وجہ سے شادی شدہ عورت کے لیے عدت گزارنا لازمی ہے، اس کے بغیر اگر وہ نکاح کرلیتی ہے تواس کا نکاح منعقد نہیں ہوگا ۔
القرأن الكريم : [البقرة:/2 235] ﵟ
وَلَا تَعۡزِمُواْ عُقۡدَةَ ٱلنِّكَاحِ حَتَّىٰ يَبۡلُغَ ٱلۡكِتَٰبُ أَجَلَهُۥۚ .
الدرالمختار:(3/ 191، ط: دار الفكر)
(ولو) (أسلم أحدهما) أي أحد المجوسيين أو امرأة الكتابي (ثمة) أي في دار الحرب وملحق بها كالبحر الملح (لم تبن حتى تحيض ثلاثا) أو تمضي ثلاثة أشهر (قبل إسلام الآخر) إقامة لشرط الفرقة مقام السبب .
الهندية: (1/ 280، ط: دارالفكر)
لا يجوز للرجل أن يتزوج زوجة غيره وكذلك المعتدة، كذا في السراج الوهاج. سواء كانت العدة عن طلاق أو وفاة أو دخول في نكاح فاسد أو شبهة نكاح، كذا في البدائع.