شراب لگی کپڑوں میں نماز پڑھنا

فتوی نمبر :
1120
عبادات / نماز /

شراب لگی کپڑوں میں نماز پڑھنا

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی کے کپڑوں پر شراب کی چھینٹے پڑ گئی ہیں ان کپڑوں میں نماز کا کیا حکم ہے ؟ آیا شراب پاک ہے یا ناپاک ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ شراب نجاست غلیظہ ہے اگر ایک درہم (5.94 سینٹی میٹر )سے کم کپڑوں کو لگ جائے تو معاف ہے ، لیکن اگر ایک درہم سے زیادہ لگ جائے تو ان کپڑوں میں دھوئے بغیر نماز پڑھنا جائز نہیں ہے ۔

حوالہ جات

الدرالمختار : (1/ 316، ط: دارالفكر)
(وعفا) ‌الشارع (‌عن ‌قدر ‌درهم) وإن كره تحريما، فيجب غسله، وما دونه تنزيها فيسن، وفوقه مبطل فيفرض.

الهندية: (1/ 58، ط: دارالفكر)
النجاسة ‌إن ‌كانت ‌غليظة وهي أكثر من قدر الدرهم فغسلها فريضة والصلاة بها باطلة وإن كانت مقدار درهم فغسلها واجب والصلاة معها جائزة وإن كانت أقل من الدرهم فغسلها سنة .

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
48
فتوی نمبر 1120کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --