بیوہ کے لیے (رجم سنگسار) کا حکم

فتوی نمبر :
1023
/ /

بیوہ کے لیے (رجم سنگسار) کا حکم

عورت شادی شدہ ہے لیکن اس کے شوہر کا انتقال ہوا ہے تو کیا اگر وہ زنا کرے تو اس کی سزا بھی رجم ہی ہوگی؟ یعنی رجم کے لیے شوہر کا موجود ہونا ضروری ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ اسلام میں زنا کرنا ایک کبیرہ گناہ ہے، جس کی سزا شادی شدہ کے لیے رجم (سنگسار) ہے اور غیر شادی شدہ کے لیے سو کوڑے، اگر کوئی شادی شدہ عورت زنا کرے تو اسے رجم کیا جائےگا،چاہیے شوہر زندہ ہو یا مرچکا ہو، تاہم یہ سزا نافذ کرنا صرف اسلامی حکومت اور عدالت کا کام ہے، کسی فرد کو یہ حق حاصل نہیں ۔

حوالہ جات

*القرآن الکریم: (النور:2:24)*
ٱلزَّانِيَةُ وَٱلزَّانِي فَٱجْلِدُوا۟ كُلَّ وَٟحِدٍۢ مِّنْهُمَا مِا۟ئَةَ جَلْدَةٍۢۖ وَلَا تَأْخُذْكُم بِهِمَا رَأْفَةٌ فِى دِينِ ٱللَّهِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْـَٔاخِرِۖ وَلْيَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَآئِفَةٌ مِّنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ.

*صحيح البخاري:(165/8،رقم الحديث: 6814،ط: دار طوق النجاة)*
حدثنا محمد بن مقاتل، أخبرنا عبد الله، أخبرنا يونس، عن ابن شهاب قال: حدثني أبو سلمة بن عبد الرحمن، عن جابر بن عبد الله الأنصاري، «أن رجلا من أسلم، أتى رسول الله ﷺ فحدثه أنه قد زنى، فشهد على نفسه أربع شهادات، فأمر به رسول الله ﷺ فرجم، وكان قد أحصن.»

*الشامية:(4/ 17،ط:دارالفكر)*
أنه لا يجب ‌بقاء ‌النكاح ‌لبقاء ‌الإحصان.

*الموسوعة الفقهية الكويتية:(2/ 226،ط:دارالسلاسل)*
ومما تجدر الإشارة إليه أنه لا يجب ‌بقاء ‌النكاح ‌لبقاء ‌الإحصان، فلو نكح في عمره مرة ثم طلق وبقي مجردا، وزنى رجم.

*فقه السنةللسيد السابق:(2/ 410،ط:دارالكتاب العربي)*
ولا يلزم بقاء الزواج ‌لبقاء ‌صفة ‌الاحصان، فلو تزوج مرة زواجا صحيحا، ودخل بزوجته، ثم انتهت العلاقة الزوجية. ثم زنى وهو غير متزوج فإنه يرجم.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
21
فتوی نمبر 1023کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --
  • 149