مفتی صاحب! گھر میں برکت کے حصول کی نیت سے ہر وقت اسپیکر وغیرہ میں قرآنِ مجید کی تلاوت چلا کر رکھنا کیسا ہے؟ کیا ایسا کرنا شرعاً درست ہے؟
واضح رہے کہ اگر قرآنِ مجید کی تلاوت براہِ راست کی جا رہی ہو تو اس کو غور سے سننا اور خاموش رہنا واجب ہے، البتہ اگر تلاوت ریڈیو، موبائل یا کسی دوسرے ذریعے سے چل رہی ہو تو اس صورت میں تلاوت سننے کا وہ حکم نہیں ہے، تاہم قرآنِ کریم کے ادب کا تقاضا یہ ہے کہ اسے خاموشی اور توجہ کے ساتھ سنا جائے، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں اگر تلاوت کو غور سے سننا اور اس کی طرف توجہ دینا ممکن ہو تو گھر میں تلاوت چلانا جائز، بلکہ باعثِ اجر و ثواب ہوگا اور اگر توجہ سے سننا ممکن نہ ہو تو تلاوت نہ چلائی جائے۔
القرآن الکریم:(الأعراف:9، 204) {وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ} الهندية: (5/ 316،ط:دارالفکر) لا يقرأ جهرا عند المشتغلين بالأعمال ومن حرمة القرآن أن لا يقرأ في الأسواق، وفي موضع اللغو كذا في القنية. لأن تعظيم القرآن والفقه واجب، كذا في فتاوى قاضي خان. ایضاً :(5/ 317) صبي يقرأ في البيت وأهله مشغولون بالعمل يعذرون في ترك الاستماع إن افتتحوا العمل قبل القراءة وإلا فلا، ایضاً :(5/ 322) رجل أمسك المصحف في بيته، ولا يقرأ قالوا: إن نوى به الخير والبركة لا يأثم بل يرجى له الثواب، كذا في فتاوى قاضي خان.