السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مفتی صاحب مسئلہ یہ پوچھنا تھا کہ ہمارے گاؤں میں ایک مسجد ہے جس میں ہم نے ایک قاری صاحب کو لایا تھا بچوں کو پڑھانے کے لیے اور نماز پڑھانے کے لیے لیکن وہ قاری صاحب صرف تین نمازیں پڑھاتے تھے اور ایک ٹائم بچوں کو سبق پڑھاتے تھے
اس کے بعد پھر اس مسجد کے متولی یعنی جس کی ذمہ داری ہے مسجد سنبھالنے کی اس نے ایک دوسرے قاری صاحب کو لایا وہ دو ٹائم ہے نماز بھی پڑھاتا تھا اور جمعہ کی نماز بھی پڑھاتا تھا اور جنازہ وغیرہ یہ سب کچھ پڑھاتا تھا اور اس کی تنخواہ 8 ہزار روپے وہ اپنے جیب سے دیتا تھا 2000 روپے ہم اکٹھا کرکے دیتے تھے
اور دوسرے قاری صاحب جو بچوں کو پڑھا تھے اس کی تنخواہ ہم پورے گاؤں والے جمع کر کے دیتے تھے لیکن تھوڑے عرصے سے یہ مسئلہ ہوا کہ پھر وہ قاری صاحب کبھی آتے تھے کبھی نہیں اتے تھے اور ایک ٹائم ہمیں اور بچوں کو پڑھانے کی ضرورت تھی
یعنی صبح کے ٹائم بھی بچوں کو پڑھانے کی ضرورت تھی تو ہم نے اس قاری صاحب کو بولا جس کو ہم نے لایا تھا کہ آپ اس دوسرے قاری صاحب کو کہیں کہ آپ نہ ائیں بلکہ آپ ہی ایا کریں پانچ وقت نماز پڑھائیں اور دو وقت بچوں کو سبق پڑھائیں
اس پر انہوں نے کہا کہ اپ مجھ سے بات نہ کریں اس مسجد کے متولی ہے آپ ان سے بات کریں جب ہم نے ان سے بات کی تو اس نے کہا کہ یہ مسجد میری ہے اور میری مرضی ہے میں جس کو لاؤں جس کو ہٹاؤں اس کو نہیں ہٹائیں گے بلکہ یہی آیا کریں گے اور یہ دوسرے قاری صاحب ہیں یہ بھی آیا کریں گے اور یہی سب کچھ سنبھالیں گے اس پر پورے گاؤں والے اس مسجد سے متنفر ہو گئے اس مسجد میں نہیں جاتے بعض لوگ گھر پر نماز پڑھتے ہیں
بعض لوگ جا کر دوسری جو دور مسجد ہے وہاں نماز پڑھتے ہیں اب پوچھنا یہ تھا مفتی صاحب کہ یہ مسجد جنہوں نے بنائی ہے ایا ان کی مرضی چلے گی یا اللہ رب العزت کی مرضی چلے گی وہ کہتے ہیں کہ ہمارے مسجد میں نہ اؤ تو ہم ان کی مسجد میں نہ جائیں الگ نماز پڑھیں یا دوسری مسجد میں چلے جائیں۔؟ اور یہ اگر اس مسجد میں جائیں گے تو ہماری نماز ہو جائے گی یا نہیں.؟ کیونکہ ہم قاری صاحب کے ساتھ بھی گاؤں والوں کا تنازع ہے کہ ان گاؤں والوں نے لایا تین سال تک اس قاری صاحب کو تنخواہیں دی اور ان کی ہر طرح کی ضروریات پوری کی اب وہ قاری صاحب بھی دوسری طرف باتیں کرنے لگے اور مسجد میں کبھی جماعت ہوتی ہے کبھی جماعت نہیں ہوتی کیونکہ بڑھانے والا کوئی ہوتا نہیں صبح کے وقت بھی پڑھانے کے لیے کوئی استاد نہیں ہوتا تو اپ ایسی کوئی ترتیب بتا دیں کہ ان کا یہ مسئلہ حل ہو جائے کیونکہ جو متولی ہے یعنی وہ زمین ایک بندے نے وقف کی ہے اور دوسرے بندے نے اس پر مسجد بنائی ہے اسٹام پیپر وغیرہ سب انہی کے پاس ہے وہ کہتا ہے کہ میں جو چاہوں گا میری جو مرضی ہوگی وہی ہوگی، چاہے کوئی نماز پڑھنے کے لیے آئے یا نہ آئے؟
جب کوئی زمین اللہ کے لیے وقف ہو جائے اور اس پر مسجد تعمیر کر دی جائے تو وہ شرعاً مسجد بن جاتی ہے، پھر وہ کسی فرد، (واقف یا متولی) کی ذاتی ملکیت نہیں رہتی بلکہ اللہ کا گھر ہوتی ہے، اس کے بعد کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنی مرضی سے لوگوں کو مسجد میں آنے، نماز پڑھنے یا جماعت قائم کرنے سے روکے۔
متولی کا اختیار صرف انتظام و خدمت تک محدود ہے، اگر اس کے فیصلوں سے نمازِ باجماعت، بچوں کی دینی تعلیم یا اہلِ محلہ کا اتحاد متاثر ہو تو یہ طرزِ عمل شرعاً درست نہیں۔
اگر موجودہ امام و حافظ میں امامت کی شرائط موجود ہوں تو اس کے پیچھے نماز بالکل درست ہے، محض باہمی اختلاف یا تنخواہ کے معاملے سے نماز فاسد نہیں ہوتی، بلا عذر مسجد چھوڑ کر گھر میں نماز پڑھنا درست نہیں، البتہ شدید مجبوری میں وقتی طور پر دوسری مسجد میں نماز کی اجازت ہے، لہٰذا بہتر یہی ہے کہ اہلِ محلہ باہمی مشورے سے ایسا نظم قائم کریں جس سے جماعت، تعلیمِ قرآن اور مسجد کی آبادی برقرار رہے۔
*القرآن الکریم: (البقرہ:114:2)*
وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسَاجِدَ اللَّهِ أَنْ يُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ وَسَعَىٰ فِي خَرَابِهَا ۚ أُولَٰئِكَ مَا كَانَ لَهُمْ أَنْ يَدْخُلُوهَا إِلَّا خَائِفِينَ ۚ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ
*الشامية:(555/1،ط: دارالفكر)*
لكن في الخانية وإن لم يكن لمسجد منزله مؤذن فإنه يذهب إليه ويؤذن فيه ويصلي وإن كان واحدا لأن لمسجد منزله حقا عليه، فيؤدي حقه مؤذن مسجد لا يحضر مسجده أحد.
*الھندیة:(86،87/1،ط:دالفکر)*
رجل أم قوما وهم له كارهون إن كانت الكراهة لفساد فيه أو لأنهم أحق بالإمامة يكره له ذلك وإن كان هو أحق بالإمامة لا يكره. هكذا في المحيط.
*البحرالرائق :(365/1،ط:دارالکتاب الاسلام)*
وبقي شروط الإمامة، وقد عدها الشرنبلالي في نور الإيضاح فقال وشروط الإمامة للرجال الأصحاء ستة أشياء: الإسلام والبلوغ والعقل والذكورة والقراءة والسلامة من الأعذار كالرعاف والفأفأة والتمتمة واللثغ وفقد شرط كطهارة وستر عورة.