اگر مسبوق امام کے پیچھے قعدۂ اخیرہ میں تشہد کے بعد آخر تک ’’اللّٰهُمَّ رَبَّنَا آتِنَا‘‘ بھی پڑھ لے تو اس کا کیا حکم ہے؟
واضح رہے کہ مسبوق مقتدی پر امام کی متابعت کی وجہ سے بھول کر درود شریف،اور دعا پڑھنے سے سجدے سہو واجب نہیں ہوتا، لہذا پوچھی گئی صورت میں اگر درود شریف،دعا اخیر تک پڑھی تو سجدہ سہو واجب نہیں ۔
الدرالمختار : (2/ 82، ط: دارالفكر) (ومقتد بسهو إمامه إن سجد إمامه) لوجوب المتابعة (لا بسهوه) أصلا. الشامية :(2/ 82، ط: دارالفكر) (قوله لا بسهوه أصلا) قيل لا فائدة لقوله أصلا، وليس بشيء، بل هو تأكيد لنفي الوجوب لأن معناه لا قبل السلام للزوم مخالفة الإمام ولا بعده لخروجه من الصلاة بسلام الإمام لأنه سلام عمد ممن لا سهو عليه كما في البحر.