مفتی صاحب ! ١) کیا بنی اسرائیل دنیا کی سب سے خبیث قوم ہے ؟ 2) اگر یہ اتنی ہی خبیث قوم ہے تو اللّہ (ج) نے انکو اتنی ڈھیل کیوں دی؟ 3) اور اگر اللہ(ج) نے اتنی ڈھیل دے بھی دی تو سب سے زیادہ ذکر قرآن میں بنی اسرائیل کا کیوں آیا ہے؟
1) بنی اسرائیل کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ مطلقاً دنیا کی سب سے خبیث قوم ہے، قرآنِ کریم سے ثابت نہیں، قرآنِ مجید نے بنی اسرائیل کے بعض افراد اور گروہوں کی نافرمانی، عہد شکنی، ظلم، حق سے انحراف اور انبیاء کرام علیہم السلام کی مخالفت پر سخت گرفت فرمائی ہے، لیکن پوری قوم کو بلااستثناء خبیث قرار نہیں دیا، جیسے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿لَيْسُوا سَوَاءً﴾ یعنی "وہ سب برابر نہیں ہیں"، پھر ان میں ایک ایسی جماعت کا ذکر فرمایا جو رات کے اوقات میں اللہ تعالیٰ کی آیات تلاوت کرتی اور سجدہ کرتی تھی، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کسی قوم کے تمام افراد کو محض ان کی نسبت اور قومیت کی بنیاد پر خبیث قرار دینا شرعاً درست نہیں۔ 2) بنی اسرائیل میں بعض لوگوں کی نافرمانیوں کے باوجود اللہ تعالیٰ کے انہیں طویل عرصے تک مہلت دینے کی وجہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ وہ گناہ گاروں کو فوراً عذاب میں مبتلا نہیں فرماتا، بلکہ انہیں توبہ، رجوع اور اصلاح کا موقع دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ مَا تَرَكَ عَلَيْهَا مِنْ دَابَّةٍ﴾ (النحل: 61) کہ اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے کرتوت پر گرفت کریں تو زمین پر کوئی بھی باقی نہ رہے، اس لیے اللہ تعالٰی نے انہیں طویل عرصے تک مہلت دی، مزید یہ کہ بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ نے ایک زمانے میں خصوصی نعمتیں فرمائیں، چنانچہ ارشاد ہے: ﴿وَأَنِّي فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعَالَمِينَ﴾ (البقرۃ: 47)، یعنی "میں نے تمہیں لوگوں پر فضیلت دی۔" مفسرین نے واضح کیا ہے کہ یہاں فضیلت سے مراد ان کے زمانے کے لوگوں پر دی گئی خصوصی فضیلت ہے، نہ کہ ہر زمانے اور ہر قوم پر مطلق برتری، یہ فضیلت بھی اطاعت اور شکر سے وابستہ تھی۔ 3) جہاں تک قرآنِ کریم میں بنی اسرائیل کے کثرت سے ذکر کا تعلق ہے تو اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان کی تاریخ میں اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتیں، انبیائے کرام کی بعثت، ہدایت و گمراہی، اطاعت و نافرمانی اور عروج و زوال کے متعدد واقعات موجود ہیں، حضرت موسیٰ، حضرت ہارون، حضرت داؤد، حضرت سلیمان، حضرت زکریا، حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام سمیت متعدد انبیاء کا تعلق اسی قوم سے تھا، قرآنِ کریم نے ان واقعات کو محض تاریخی معلومات کے طور پر نہیں، بلکہ امتِ مسلمہ کے لیے عبرت، نصیحت اور عملی رہنمائی کے طور پر بیان فرمایا ہے،اس لیے ان کا ذکر زیادہ ہے۔
القرآن الکریم:(آل عمران: 113:3) ﴿لَيْسُوا سَوَاءً ۗ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ أُمَّةٌ قَائِمَةٌ يَتْلُونَ آيَاتِ اللَّهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَهُمْ يَسْجُدُونَ﴾ القرآن الکریم: (النحل: 61:16) ﴿وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ مَا تَرَكَ عَلَيْهَا مِنْ دَابَّةٍ﴾ القرآن الکریم: (البقرہ:47:2) ﴿يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ اذْكُرُوا نِعْمَتِيَ الَّتِي أَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَأَنِّي فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعَالَمِينَ ﴾