حیلۂ اسقاط اور اس کا شرعی حکم

فتوی نمبر :
1820
حظر و اباحت / جائز و ناجائز /

حیلۂ اسقاط اور اس کا شرعی حکم

ہمارے علاقے میں جب کوئی شخص فوت ہو جائے تو لوگ ایک مخصوص فیس، رقم جمع کرتے ہیں، اگر فیس نہ لی جائے تو پھر لوگوں سے تھوڑی تھوڑی رقم جمع کی جاتی ہے پھر یہ رقم مسکینوں میں تقسیم کی جاتی ہے، ہر ایک کو ایک پیالی دی جاتی ہے اور جب وہ قبول کر لیں تو کچھ لوگ وہ پیالیاں واپس لے لیتے ہیں، وہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ فدیہ ہے، چاہے اس میّت پر روزے ہوں، یا نمازیں ہوں، یا کوئی اور گناہ اللہ تعالیٰ اسے معاف کر دیتا ہے، کیا یہ طریقہ کسی معتبر کتاب میں ثابت ہے؟
یعنی کیا یہ طریقہ کسی شرعی ماخذ سے معلوم ہوتا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

فقہائے کرام نے اسقاط (یعنی فوت شدہ نمازوں اور روزوں کا فدیہ ادا کرنے کے ایک طریقے) کی اجازت صرف اُن لوگوں کے لیے بیان کی تھی، جن کی کچھ عبادتیں اتفاقاً رہ گئیں ہوں، موت کے وقت فدیہ کی وصیت بھی کر گئے ہوں، مگر ترکہ اتنا کم ہو کہ ان تمام قضا شدہ عبادتوں کا فدیہ ادا نہ ہوسکے، ایسی صورت میں اگر ورثا صاحبِ استطاعت ہوں تو وہ اپنے مال سے فدیہ ادا کردیں۔
اور اگر ان کے پاس بھی گنجائش نہ ہو تو فقہائے کرام نے ایک جائز صورت کا ذکر کیا ہے، کہ ورثا کچھ رقم کسی مستحقِ زکوٰۃ کو فدیہ کی نیت سے دیں اور اسے اس رقم کا مکمل مالک بنادیں، اس طرح کہ اگر وہ چاہے تو رقم واپس نہ کرے اور ورثا کو اس پر کوئی اعتراض نہ ہو، پھر اگر وہ مستحق اپنی خوشی سے بغیر کسی دباؤ کے رقم واپس کردے تو ورثا دوبارہ اسے یا کسی اور مستحق کو وہ رقم دے دیں، اس طرح رقم دینا اور اس کا اپنی خوشی سے واپس کرنا بار بار ہوتا رہے، یہاں تک کہ فدیہ کی مکمل مقدار پوری ہوجائے، آخر میں جس مستحق کے پاس رقم رہے گی، وہی اس کا مالک ہوگا اور اس پر کوئی دباؤ نہیں ڈالا جاسکتا۔

لیکن آج کل مروجہ ”حیلہ اسقاط“ شرعی لحاظ سے درست نہیں، کیونکہ اسے عام رواج بنا دیا گیا ہے، جبکہ فقہائے کرام نے اس کی اجازت صرف مجبوری کی حالت میں دی تھی، مزید یہ کہ اس عمل میں شرعی اصولوں کی پابندی بھی نہیں رکھی جاتی، اس طریقے میں کئی قباحتیں پائی جاتی ہیں:
1) جو رقم گھمائی جاتی ہے وہ اکثر میت کا ترکہ ہوتی ہے اور تمام ورثا کی اجازت کے بغیر اس میں تصرف جائز نہیں، خاص طور پر جب نابالغ ورثا بھی ہوں۔
2) مال کا اگلے شخص کی ملکیت میں صحیح طرح داخل نہ ہونا، کیونکہ اس میں زبردستی اور رسمی لین دین شامل ہوتا ہے۔
3) فدیہ صحیح مصرف تک نہیں پہنچتا، کیونکہ کئی مالدار لوگ بھی اس عمل میں شامل کر لیے جاتے ہیں۔
4) آخری مستحق کی ملکیت میں رقم آنے کے بعد اس کی مرضی کے بغیر رقم واپس لی جاتی ہے، جو ناجائز ہے۔
5) عوام اسے فرض و واجب سمجھتی ہے، حالاں کہ یہ حیلہ زیادہ سے زیادہ مباح ہوسکتا ہے اور ایک مباح بلکہ مندوب فعل کو بھی ضروری سمجھنے سے اس کا ترک واجب ہوجاتا ہے۔
لہذا پوچھی گئی صورت میں ایک خرابی تو یہ ہے کہ چونکہ میت کے حیلہ اسقاط کے لیے لوگوں سے پیسے جمع کیے جاتے ہیں اس میں معلوم نہیں کہ کس کی رضامندی شامل ہے اور کس کی نہیں اور کسی مسلمان کا مال اس کی رضامندی کے بغیر حلال نہیں اور دوسری خرابی اس کا رواج ہونا ہے، حالانکہ فقہائے کرام نے صرف مجبوری میں اجازت دی تھی، تیسری خرابی اس میں یہ ہے کہ پیالی دے کر واپس بھی لی جاتی ہے، اس لیے یہ ناجائز ہے اس سے اجتناب لازم ہے۔

حوالہ جات

*صحيح مسلم:(132/5،رقم الحديث: 17(1718)،ط: دار طوق النجاة)*
حدثنا أبو جعفر محمد بن الصباح، وعبد الله بن عون الهلالي جميعا عن إبراهيم بن سعد قال ابن الصباح: حدثنا إبراهيم بن سعد بن إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف ، حدثنا أبي ، عن القاسم بن محمد ، عن عائشة قالت: قال رسول الله ﷺ: «من أحدث في أمرنا هذا ما ليس منه فهو رد ».

*مرقاةالمفاتيح:(755/2،ط:دار الفكر)*
وفيه أن من أصر على أمر مندوب، وجعله عزما، ولم يعمل بالرخصة فقد أصاب منه الشيطان من الإضلال فكيف من أصر على بدعة أو منكر؟

*الشامية:(73/2،ط: دارالفكر)*
وبه ظهر حال وصايا أهل زماننا، فإن الواحد منهم يكون في ذمته صلوات كثيرة وغيرها من زكاة وأضاح وأيمان ويوصي لذلك بدراهم يسيرة، ويجعل معظم وصيته لقراءة الختمات والتهاليل التي نص علماؤنا على عدم صحة الوصية بها، وأن القراءة لشيء من الدنيا لا تجوز، وأن الآخذ والمعطي آثمان لأن ذلك يشبه الاستئجار على القراءة، ونفس الاستئجار عليها لا يجوز، فكذا ما أشبهه كما صرح بذلك في عدة كتب من مشاهير كتب المذهب.

*وأيضاً:(73/2،ط: دارالفكر)*
ولو لم يترك مالا يستقرض وارثه نصف صاع مثلا ويدفعه لفقير ثم يدفعه الفقير للوارث ثم وثم حتى يتم.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
25
فتوی نمبر 1820کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --