السلام علیکم ورحمۃ اللہ ! ایک آدمی سخت بیمار ہو، نماز نہ پڑھ سکتا ہو، اسی بیماری میں اس آدمی کا انتقال ہو جائے تو کیا اس پر ان نمازوں کا کفارہ ادا کرنا لازم ہو گا ؟ مفتی صاحب! اس مسئلہ کے بارے میں رہنمائی فرمائیں ۔
پوچھی گئی صورت میں اگر مرحوم نے فدیہ دینے کی وصیت کی ہے تو ورثاء پر لازم ہے کہ اس کے ترکے کے ایک تہائی سےاس کی قضا نمازوں کا فدیہ ادا کریں، اگر ایک تہائی ترکے سے تمام قضا نمازوں کا فدیہ ادا ہو جائے تو بہتر، ورنہ جتنی قضا نمازوں کا فدیہ ادا ہو سکتا ہو، وہ ادا کیا جائے ،ایک تہائی سے زائد سے فدیہ ادا کرنا واجب نہیں ہوگا۔ ایک نماز کا فدیہ پونے دو کلو گندم یا اس کی قیمت ہے اور روزانہ وتر سمیت چھ نمازیں ہیں تو ایک دن کی نمازوں کے فدیے بھی چھ ہوئے۔
الدرالمختار مع ردالمحتار:(2/ 72،ط:دارالفكر) (ولو مات وعليه صلوات فائتة وأوصى بالكفارة يعطى لكل صلاة نصف صاع من بر) كالفطرة (وكذا حكم الوتر) والصوم... (قوله وإنما يعطي من ثلث ماله) أي فلو زادت الوصية على الثلث لا يلزم الولي إخراج الزائد إلا بإجازة الورثة. الهندية:(1/ 125،ط:دارالفكر) في التتارخانية إذا مات الرجل وعليه صلوات فائتة فأوصى بأن تعطى كفارة صلواته يعطى لكل صلاة نصف صاع من بر وللوتر نصف صاع ولصوم يوم نصف صاع من ثلث ماله وإن لم يترك مالا يستقرض ورثته نصف صاع ويدفع إلى مسكين ثم يتصدق المسكين على بعض ورثته ثم يتصدق ثم وثم حتى يتم لكل صلاة ما ذكرنا، كذا في الخلاصة.