مفتی صاحب! پوچھنا یہ تھا کہ کچھ عرصہ پہلے میں نے ایک شخص سے ایک پلاٹ خریدا ، اس کی ادائیگی بھی اس کو مکمل کر دی، اس پر میں نے چار دیواری بھی بنا دی، بعد میں پتہ چلا اسی شخص نے وہ پلاٹ کسی اور شخص کو فروخت کر دیا ہے، کیا اس کا اس طرح اس پلاٹ کو بیچنا جائز ہے یا نہیں؟
واضح رہے کہ شریعتِ مطہرہ میں کسی شخص کے لیے مالک کی اجازت کے بغیر اس کی ملکیت کو فروخت کرنا جائز نہیں، اگر کوئی شخص مالک کی اجازت کے بغیر اس کی چیز فروخت کر دے تو ایسی بیع بیعِ فضولی کہلاتی ہے اور اس کا منعقد ہونا اصل مالک کی اجازت پر موقوف ہوتا ہے، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں جب آپ نے پلاٹ خرید کر اس کی مکمل قیمت ادا کر دی تو وہ پلاٹ آپ کی ملکیت بن گیا۔ اس کے بعد اگر پہلے مالک نے آپ کی اجازت کے بغیر وہی پلاٹ کسی دوسرے شخص کو فروخت کر دیا تو یہ فروخت آپ کی اجازت پر موقوف ہوگی، آپ کو اختیار ہے، اگر چاہیں تو اس فروخت کی اجازت دے کر دوسرے خریدار سے قیمت وصول کر لیں اور اگر اجازت نہ دینا چاہیں تو اپنی ملکیت (پلاٹ) واپس لے سکتے ہیں، کیونکہ شرعاً اس پر آپ ہی کا حق ثابت ہے۔
*فتح القدير:(248/6،ط:دارالفكر)* ومنها شرط النفاذ وهو الملك والولاية، حتى إذا باع ملك غيره توقف النفاذ على الإجازة ممن له الولاية. *البناية:(8/3،ط:دار الكتب العلمية)* ومنها التراضي. ومنها شرط النفاذ، وهو الملك أو الولاية. وأما حكمه: فملك البائع الثمن، والمشتري المبيع.