ایک لڑکے نے اپنے ماں اور بہن کی موجودگی میں اپنے بہنوئی سے سونا لیا، بہنوئی سونا لے کر دکان گیا اور وہیں سونا بیچ کر لڑکے کو پانچ لاکھ روپے دیے تاکہ وہ اپنا ویزہ وغیرہ بنوائے، طے یہ ہوا کہ پانچ سال بعد جب وہ رقم واپس کرے گا تو اس وقت کے سونے کی قیمت کے حساب سے واپس کرے گا۔
اب مسئلہ یہ ہے کہ چونکہ لڑکے کے ہاتھ میں سونا نہیں آیا بلکہ نقد روپے دیے گئے تھے، اس لیے کیا واپسی میں اس وقت کے سونے کی قیمت دینا لازم ہوگا یا اتنے ہی روپے واپس کرے جتنے لیے تھے؟ اور اگر موجودہ سونے کی قیمت کے مطابق زیادہ رقم واپس کی گئی تو کیا یہ سود کے زمرے میں آئے گا یا نہیں؟
قرض کے لیے ضروری ہے کہ جو چیز قرض دی جائے، واپسی کے وقت اسی کے مثل لوٹائی جائے اگر معاہدے کے تحت اس میں کمی یا زیادتی کی شرط رکھی جائے تو یہ سود (ربا) کے حکم میں آتا ہے جو کہ ناجائز اور حرام ہے۔
لہذا پوچھی گئی صورت میں اگر کسی شخص نے دوسرے کو اپنا سونا بیچ کر پانچ لاکھ نقد رقم قرض دی ہے، تو واپسی میں اتنی ہی رقم (پانچ لاکھ روپے) واپس کرنا لازم ہوگا،البتہ اگر قرض لینے والا چاہے تو اپنی خوشی سے اس رقم کی مالیت کے بقدر سونا دے سکتا ہے۔
لیکن یہ شرط لگانا کہ قرض نقد دیا جا رہا ہے اور واپسی سونے کے حساب سے ہوگی ناجائز ہے، کیونکہ سونے کی قیمت میں کمی زیاتی ہوتی ہے جو سود کے زمرے میں آتی ہے۔
*سنن ابي داوود:(222/5،رقم الحديث 3333،ط:دار الرسالة العالمية)*
حدثنا أحمد بن يونس، حدثنا زهير، حدثنا سماك، حدثني عبد الرحمن بن عبد الله بن مسعودعن أبيه، قال: لعن رسول الله ﷺ آكل الربا وموكله وشاهده وكاتبه.
*العناية شرح الهداية:(233/12،ط:دار الكتب العلمية)*
وأخرج البيهقي أيضا من حديث إدريس بن يحيى عن عبد الله بن عياش حدثنا يزيد بن حبيب، عن أبي مرزوق النخعي عن فضالة بن عبيد أنه قال: كل قرض جر منفعة فهو وجه من وجوه الربا.
*المحيط البرهاني:(126/7،ط:دار الكتب العلمية)*
قال محمد في كتاب الصرف: إن أبا حنيفة كان يكره كل قرض جر منفعة قال الكرخي: هذا إذا كانت المنفعة مشروطة في العقد بأن أقرض عادلية صحاحًا أو ما أشبه ذلك، فإن لم تكن المنفعة مشروطة في العقد، فأعطاه المستقرض أجود مما عليه، فلا بأس به.
*الشامية:(166/5،ط:دارالفكر)*
وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن.
(قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به ويأتي تمامه (قوله فكره للمرتهن إلخ) الذي في رهن الأشباه يكره للمرتهن الانتفاع بالرهن إلا بإذن الراهن.
*العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية: (279/1،ط:دار المعرفة)*
(سئل) في رجل استقرض من آخر مبلغا من الدراهم وتصرف بها ثم غلا سعرها فهل عليه رد مثلها؟
(الجواب): نعم ولا ينظر إلى غلاء الدراهم ورخصها كما صرح به في المنح في فصل القرض مستمدا من مجمع الفتاوى.