ایک حدیث بیان کی جاتی ہے کہ جو بندہ کسی کا مذاق اڑائے، کسی ایسے عیب کی وجہ سے جو اس میں موجود ہو تو مرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ اس عیب میں اس بندے کو مبتلا کریں گے ۔ کیا یہ حدیث صحیح ہے؟
واضح رہے کہ سوال میں ذکر کیے گئے الفاظ کے قریب، قریب الفاظ حضرت یحییٰ بن جابر رحمہ اللہ تعالیٰ کا ایک قول ہے، جو کتبِ حدیث اور کتبِ تاریخ میں مذکور ہے۔ امام بیہقی رحمہ اللہ نے شعب الإيمان میں اپنی سند کے ساتھ حضرت یحییٰ بن جابر رحمہ اللہ کا یہ قول نقل کیا ہے: حدثني يحيى بن جابر قال: ما عاب رجلٌ قطُّ بعيبٍ إلا ابتلاه الله بمثل ذلك العيب. ترجمہ: "جب بھی کسی شخص نے کسی دوسرے شخص میں کوئی عیب نکالا، اللہ تعالیٰ نے اسے بھی اسی عیب میں مبتلا فرما دیا۔" البتہ اسی مفہوم کے قریب الفاظ احادیثِ مبارکہ میں بھی منقول ہیں۔ چنانچہ سنن ترمذی میں امام ترمذی رحمہ اللہ تعالیٰ نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے یہ روایت نقل کی ہے: عن خالد بن معدان، عن معاذ بن جبل رضي الله تعالى عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "مَنْ عَيَّرَ أَخَاهُ بِذَنْبٍ لَمْ يَمُتْ حَتَّى يَعْمَلَهُ". قال أحمد: قالوا: من ذنبٍ قد تاب منه. ترجمہ: حضرت خالد بن معدان رحمہ اللہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "جس شخص نے اپنے مسلمان بھائی کو کسی گناہ پر عار دلائی، وہ اس وقت تک نہیں مرے گا، جب تک خود بھی وہ گناہ نہ کر لے"۔ امام ترمذی رحمہ اللہ کے استاد احمد بن منیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ محدثین رحمہم اللہ نے اس سے مراد وہ گناہ لیا ہے جس سے وہ شخص توبہ کر چکا ہو۔ امام ترمذی رحمہ اللہ تعالیٰ نے مذکورہ حدیث کا حکم بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے: "هذا حديث حسن غريب"۔ تاہم اس کی سند متصل نہیں ہے، کیونکہ خالد بن معدان رحمہ اللہ کا حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے ملاقات کرنا ثابت نہیں ہے، البتہ مذکورہ حدیث کے معنی کی تائید میں دیگر شواہد بھی موجود ہیں، جن سے اس کے مفہوم کو تقویت حاصل ہوتی ہے، جن کا ذکر ذیل کے حوالہ جات میں کیا جائے گا،لہٰذا خلاصۂ کلام یہ ہے کہ "ما عاب رجلاً قطُّ بعيبٍ إلا ابتلاه الله بمثل ذلك العيب" کے الفاظ کو حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم قرار دینا درست نہیں، بلکہ یہ حضرت یحییٰ بن جابر رحمہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے، اس لیے اسے حضرت یحییٰ بن جابر رحمہ اللہ کے قول کے طور پر ہی بیان کیا جائے۔ البتہ اس کے ہم معنی الفاظ پر مشتمل حدیث "مَنْ عَيَّرَ أَخَاهُ بِذَنْبٍ لَمْ يَمُتْ حَتَّى يَعْمَلَهُ" سنن ترمذی میں منقول ہے، جسے امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن غریب قرار دیا ہے، اگرچہ اس کی سند میں انقطاع ہے، تاہم دیگر شواہد سے اس کے معنی کو تائید و تقویت حاصل ہوتی ہے، لہٰذا مذکورہ حدیث"مَنْ عَيَّرَ أَخَاهُ بِذَنْبٍ لَمْ يَمُتْ حَتَّى يَعْمَلَهُ" کو بیان کیا جا سکتا ہے، البتہ مناسب ہے کہ اسے بیان کرتے ہوئے اس کی سند کے متعلق محدثین کی وضاحت بھی ذکر کر دی جائے۔
شعب الإيمان: (5/ 315 ،ط: دار الكتب العلمية) 6776 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ وأبو بكر القاضي وأبو سهل المهراني قالوا نا أبو العباس الأصم نا أبو عتبة أحمد بن الفرج نا محمد بن حمير نا أبو سلمة حدثني يحيى بن جابر قال: ما عاب رجل قط بعيب إلا ابتلاه الله بمثل ذلك العيب. سنن الترمذي:(4/ 480،ط: دار الرسالة العالمية) 2671 - حدثنا أحمد بن منيع، حدثنا محمد بن الحسن بن أبي يزيد الهمداني، عن ثور بن يزيد، عن خالد بن معدان عن معاذ بن جبل، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من عير أخاه بذنب لم يمت حتى يعمله"(2). قال أحمد: قالوا: من ذنب قد تاب منه. هذا حديث حسن غريب وليس إسناده بمتصل، خالد بن معدان لم يدرك معاذ بن جبل، وروي عن خالد بن معدان أنه أدرك سبعين من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم، ومات معاذ بن جبل في خلافة عمر بن الخطاب، وخالد بن معدان روى عن غير واحد من أصحاب معاذ عن معاذ غير حديث.» المقاصد الحسنة:(660،ط: دار الكتاب العربي) 1156 - حَدِيث: مَنْ عَيَّرَ أَخَاهُ بِذَنْبٍ لَمْ يَمُتْ حَتَّى يَعْمَلَهُ، الترمذي وابن منيع والطبراني وغيرهم عن معاذ به مرفوعا، وقال الترمذي: إنه حسن غريب، وليس إسناده بمتصل، قال: وقال أحمد بن منيع يعني شيخه قالوا: من ذنب قد تاب منه، قلت: ونحوه فليجلدها الحد ولا يثرب، أي لا يوبخ ولا يقرع بالزنا بعد الجلد، وقد مضى في: البلاء من الموحدة حديث ابن مسعود: لو سخرت من كلب لخشيت أن أحول كلبا، ولابن أبي شيبة عن أبي موسى من قوله نحوه، وعزاه الزمخشري في الحجرات من الكشاف لعمر بن شرحبيل بلفظ: لو رأيت رجلا يرضع عنزا فضحكت منه لخشيت أن أصنع مثل ما صنع، وللبيهقي عن يحيى بن جابر قال: ما عاب رجل قط رجلا بعيب إلا ابتلاه اللَّه بذلك العيب، وعن إبراهيم النخعي قال: إني لأرى الشيء فأكرهه فما يمنعني أن أتكلم فيه إلا مخافة أن أبتلى بمثله، ومن هنا ورد النهي عن توبيخ من ارتكب شيئا أقيم عليه الحد كقوله صلى الله عليه وسلم: ولا يثرب. وقوله حين قال رجل لسكران أقيم عليه الحد أخزاك اللَّه: لا تعينوا عليه الشيطان إلى غيرهما من الأحاديث.