مفتی صاحب! نماز میں اگر سورۃ فاتحہ پڑھتے ہوئے کوئی آیت بھولے سے رہ جائے تو کیا نماز ہو جائے گی یا نہیں؟
واضح رہے کہ جن رکعتوں میں سورۃ فاتحہ پڑھنا واجب ہے، یعنی فرض نماز کی پہلی دو رکعتوں اور سنت و نوافل کی تمام رکعتوں میں، اگر سورۃ فاتحہ کی کوئی آیت بھول کر رہ جائے تو سجدۂ سہو واجب ہوگا، اگر سجدۂ سہو نہ کیا گیا تو نماز کے وقت کے اندر اندر اس نماز کا اعادہ واجب ہوگا۔ البتہ جن رکعتوں میں سورۃ فاتحہ پڑھنا واجب نہیں، مثلاً فرض نماز کی آخری دو رکعتوں میں اگر پوری سورۃ فاتحہ یا اس کا کوئی جزء رہ جائے تو اس کی وجہ سے سجدۂ سہو واجب نہیں ہوگا اور نماز درست ہوجائے گی۔
الشامية: (1/ 458،ط:دارالفكر) لكن في المجتبى يسجد بترك آية منها وهو أولى.. (قوله وهو أولى) لعله للمواظبة المفيدة للوجوب ط (قوله وعليه) أي وبناء على ما في المجتبى فكل آية واجبة، وفيه نظر لأن الظاهر أن ما في المجتبى مبني على قول الإمام بأنها بتمامها واجبة وذكر الآية تمثيل لا تقييد إذ بترك شيء منها آية أو أقل ولو حرفا لا يكون آتيا بكلها الذي هو الواجب، كما أن الواجب ضم ثلاث آيات، فلو قرأ دونها كان تاركا للواجب أفاده الرحمتي. حاشية الطحطاوي: (440،ط:دار الكتب العلمية ) «كل صلاة أديت مع كراهة التحريم تعاد أي وجوبا في الوقت وأما بعده فندبا.