عقوبات / حدود و سزا /

تاخیر سے آنے، یا چھٹی کی صورت میں تنخواہ سے کٹوتی کا حکم

فتوی نمبر : 3230 0000-00-00 3 مشاهدة

عضو هيئة كبار العلماء

السؤال

السلام علیکم مولانا صاحب! کچھ مدارس میں ، دیر سے آنے کی وجہ سے یا کبھی کسی عذر کی بنا پر چھٹی کی وجہ سے مدرسین کی تنخواہوں سے کٹوتی کی جاتی ہے، اس کا کیا حکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

کسی بھی ادارے کے ملازمین اجیرِ خاص کی حیثیت رکھتے ہیں، یعنی مقررہ وقت میں ملازمت کی جگہ حاضر ہوکر کام کرنے کے عوض اجرت کے مستحق ہوتے ہیں، لہٰذا ملازم کے تاخیر سے آنے یا غیر حاضر رہنے کی صورت میں انتظامیہ صرف اتنی ہی اجرت کی کٹوتی کرسکتی ہے، جتنی مدت کی کوتاہی ہوئی ہو، اس سے زائد کٹوتی جائز نہیں۔

تبيين الحقائق:(134/5،ط:دار الكتاب الإسلامي) والخاص الذي يستحق الأجرة بتسليم نفسه في المدة، الشامية: (6/ 70،ط:دارالفکر) وليس ‌للخاص ‌أن ‌يعمل ‌لغيره، ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل فتاوى النوازل. (قوله ‌وليس ‌للخاص ‌أن ‌يعمل ‌لغيره) بل ولا أن يصلي النافلة. قال في التتارخانية: وفي فتاوى الفضلي وإذا استأجر رجلا يوما يعمل كذا فعليه أن يعمل ذلك العمل إلى تمام المدة ولا يشتغل بشيء آخر سوى المكتوبة وفي فتاوى سمرقند: وقد قال بعض مشايخنا له أن يؤدي السنة أيضا. واتفقوا أنه لا يؤدي نفلا وعليه الفتوى. وفي غريب الرواية قال أبو علي الدقاق: لا يمنع في المصر من إتيان الجمعة، ويسقط من الأجير بقدر اشتغاله إن كان بعيدا، وإن قريبا لم يحط شيء فإن كان بعيدا واشتغل قدر ربع النهار يحط عنه ربع الأجرة. (قوله ولو عمل نقص من أجرته إلخ) قال في التتارخانية: نجار استؤجر إلى الليل فعمل لآخر دواة بدرهم وهو يعلم فهو آثم، وإن لم يعلم فلا شيء عليه وينقص من أجر النجار بقدر ما عمل في الدواة. شرح المجلة:(1/ 98،ط:دارالجليل) [ ‌‌(المادة 97) لا يجوز لأحد ‌أن ‌يأخذ ‌مال أحد بلا سبب شرعي] (المادة 97) : لا يجوز لأحد ‌أن ‌يأخذ ‌مال أحد بلا سبب شرعي هذه القاعدة مأخوذة من المجامع. (والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو) شهرا (لرعي الغنم) المسمى بأجر مسمى بخلاف ما لو آجر المدة بأن استأجره للرعي شهرا حيث يكون مشتركا إلا إذا شرط أن لا يخدم غيره ولا يرعى لغيره فيكون خاصا وتحقيقه في الدرر وليس للخاص أن يعمل لغيره، ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل فتاوى النوازل.
واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
ناپاک پانی کو گھر کی تعمیر میں استعمال کرنا
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
احمد اللہ،محمد نبی،فضل نبی اورفضل طارق نام رکھنا
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
عصر کے بعد ناخن کاٹنے کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
*کیا ماہِ محرم کی فضیلت حضرت حسین کی شہادت کی وجہ سے ہے؟*
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
مسافر مقتدی کا مسافر امام کے پیچھے چار رکعت نماز کی نیت کرنا
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
قاعدۂ اولیٰ میں درود شریف پڑھنے کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
بینک کے لیے سوفٹ ویئر بنانا
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
تصویر والے کمرے میں نماز کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
چھپکلی کے ٹینکی میں گر کر مرنے سے پانی کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
زندگی میں اپنی قبر کے لیے جگہ خرید کر مختص کرنا
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
قعدہ اخیرہ میں ایک سے زائد دعائیں پڑھنا
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
حاملہ عورت کا میت کے گھر جانا
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
شرم گاہ دیکھنے سے وضو ٹوٹنے کاحکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
مانع حمل ادویات استعمال کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
داڑھی منڈے کے پیچھے نماز پڑھنے کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
شکرین کے استعمال اور خریدوفروخت کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
مسبوق کا امام کے پیچھے التحیات،درود اور دعا پڑھنا
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
کسی شخص کے پلاٹ کو اس کی اجازت کے بغیر کسی اور کو فروخت کرنے کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
فجر کی نماز کی قضا کا وقت
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
فجر کی نماز کے بعد سونے کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
واقف کا مسجد میں لوگوں کو نماز پڑھنے سے روکنا اور امام کے تقرر میں اختلاف کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
قرض نقدی کی شکل میں دے کر سونے کے حساب سے واپس وصول کرنا
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
نہر میں نجاست گرنے کی صورت میں وضو یا غسل کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
عاشوراء کے دن کی طرف منسوب انبیاء علیہم السلام کے واقعات کی حقیقت*