ظہر کی چار رکعت سنتیں گھر میں پڑھ کر مسجد پہنچنے کے بعد، فرض نماز سے پہلے تحیۃ المسجد پڑھنے کا کیا حکم ہے؟ ایک مولوی صاحب اس سے منع کرتے ہیں، کیا ان کا منع کرنا درست ہے؟
ظہر، عصر اور عشاء کی فرض نماز سے پہلے کی سنتیں اگر کسی شخص نے گھر میں ادا کرلی ہوں، پھر مسجد پہنچے اور فرض نماز سے پہلے کچھ وقت باقی ہو تو مسجد میں داخل ہونے کے بعد تحیۃ المسجد کی دو رکعت پڑھنا جائز ہے، لہذا صرف اس وجہ سے تحیۃ المسجد سے منع کرنا درست نہیں کہ ظہر کی چار سنتیں گھر میں ادا کی جاچکی ہیں، البتہ فجر کی سنتیں گھر میں ادا کرنے کے بعد مسجد جاکر تحیۃ المسجد پڑھنا جائز نہیں، کیونکہ فجر کا وقت داخل ہونے کے بعد فرض نماز سے پہلے صرف دو رکعت سنتِ فجر کی گنجائش ہے، اس کے علاوہ کوئی نفل نماز، خواہ تحیۃ المسجد ہو، ادا کرنا جائز نہیں۔
العناية: (1/ 441،ط:دارالفکر) وقال الحلواني: الأفضل في السنن أداؤها في المنزل إلا التراويح؛ لأن فيها إجماع الصحابة. وقيل الصحيح أن الكل سواء، ولا تختص الفضيلة بوجه دون وجه، ولكن الأفضل ما يكون أبعد من الرياء وأجمع للإخلاص، ثم ما ذكر في الكتاب واضح. درر الحكام شرح غرر الأحكام: (1/ 116،ط:دار إحياء الكتب العربية) (وسن تحية المسجد) وهي ركعتان قبل القعود لقوله عليه الصلاة والسلام «إذا دخل أحدكم المسجد فلا يجلس حتى يركع ركعتين» (وأداء الفرض ينوبها)