عاقدین سے دلالی کی اجرت لینے کا حکم

فتوی نمبر :
1350
معاملات / مالی معاوضات /

عاقدین سے دلالی کی اجرت لینے کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی زید اور عمرو کے درمیان سودا بناتا ہے ، اور دونوں سے دلالی کی اجرت کمیشن لیتا ہے ، پوچھنا یہ ہے کہ اس طرح دونوں فریقوں سے اجرت لینا کیسا ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر دلال (کمیشن ایجنٹ ) بائع اور مشتری میں سے کسی کا عقد بیع کے بارے میں وکیل نہیں تو اس صورت میں اس کے لیے پہلے سے متعین کردہ کمیشن لینا جائز ہے ، خواہ ایک سے لے یا دونوں سے ۔

حوالہ جات

الدرالمختار : (4/ 560، ط: دارالفكر)
وأما ‌الدلال ‌فإن ‌باع العين بنفسه بإذن ربها فأجرته على البائع وإن سعى بينهما وباع المالك بنفسه يعتبر العرف وتمامه في شرح الوهبانية.

الشامية : (4/ 560، ط: دارالفكر)
(قوله: فأجرته على البائع) ‌وليس ‌له ‌أخذ ‌شيء ‌من ‌المشتري؛ لأنه هو العاقد حقيقة شرح الوهبانية وظاهره أنه لا يعتبر العرف هنا؛ لأنه لا وجه له. (قوله: يعتبر العرف) فتجب الدلالة على البائع أو المشتري أو عليهما بحسب العرف جامع الفصولين.

الهندية: (4/ 450، ط: دارالفكر)
وفي ‌الدلال والسمسار يجب أجر المثل وما تواضعوا عليه أن من كل عشرة دنانير كذا فذلك حرام عليهم. كذا في الذخيرة.
دفع ثوبا إليه وقال بعه بعشرة ‌فما ‌زاد ‌فهو ‌بيني ‌وبينك قال أبو يوسف - رحمه الله تعالى - إن باعه بعشرة أو لم يبعه فلا أجر له وإن تعب له في ذلك، ولو باعه باثني عشر أو أكثر فله أجر مثل عمله وعليه الفتوى هكذا في الغياثية.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
32
فتوی نمبر 1350کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --