مفتی صاحب ایک شخص چرس فروخت کرتا ہے۔ میرے پاس رکشہ ہے اور وہ شخص مجھ سے کہتا ہے کہ مجھے روزانہ بازار لے جایا کریں، جس کے عوض میں آپ کو ماہانہ چھ ہزار روپے کرایہ دوں گا۔ کیا ایسے شخص کو اپنے رکشے میں روزانہ بازار لے جانا اور اس سے ماہانہ چھ ہزار روپے کرایہ وصول کرنا شرعاً جائز ہے؟
واضح رہے کہ چرس کی خرید و فروخت شرعاً ناجائز ہے، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں اگر آپ اپنے رکشے میں صرف ایسے شخص کو بازار لے کر آتے جاتے ہیں جو چرس فروخت کرتا ہے اور وہ رکشے میں چرس لے کر نہیں جاتا تو اس شخص کو لے کر آنا جانا جائز ہے اور اس سے اس سفر کا طے شدہ کرایہ وصول کرنا بھی جائز ہے، البتہ اگر وہ شخص اپنے ساتھ رکشے میں چرس بھی لے کر جاتا ہے تو چونکہ اسے چرس لے جانے کے لیے سواری فراہم کرنا گناہ کے کام میں تعاون کے زمرے میں آتا ہے، اس لیے ایسی صورت میں اسے رکشے میں لے کر جانا اور اس سے کرایہ وصول کرنا جائز نہیں۔
القرآن الکریم:(المائدہ 2:5) وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ ۖ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ} تبيين الحقائق:(125/5،ط:دار الكتاب الإسلامي) "ولا تجوز الإجارة على شيء من الغناء والنوح والمزامير والطبل وشيء من اللهو ولا على الحداء وقراءة الشعر ولا غيره ولا أجر في ذلك، وهذا كله قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد؛ لأنه معصية ولهو ولعب والاستئجار على المعاصي واللعب لا يجوز؛ لأنه منهي عنه. الهندية:(449/4،ط:دار الفکر) "إذا استأجر الذمي من المسلم بيتا ليبيع فيه الخمر جاز عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - خلافا لهما. كذا في المضمرات." فتاوی رحیمیہ میں ہے:(9/292،ط:دار الاشاعت) فلمی کام کرنے والوں کو ہوٹل کے کمرے کرایہ پر دینا: "(الجواب)جانتے ہوئے ایسے بدکاروں کو کمرہ کرایہ پر دینا اعانت علی المعصیت کی وجہ سے درست نہیں ہے۔فقط واللہ اعلم"