کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں ایک بنات کا مدرسہ ہے جس میں بچیاں دینی علوم حاصل کرتی ہے ، ان کا ہفتہ وار بزم بھی ہوتا ہے، جس میں وہ بچیاں نظم ،نعت اور تقریریں کرتی ہیں اور یہ سب کچھ سپیکر پر ہوتا ہے۔ پوچھنا یہ ہے کہ عورتوں کے لیے نظم نعت اور تقریر کے لیے سپیکر کا استعمال کرنا جائز ہے ؟
واضح رہے کہ اگر عورتوں کی آواز مدرسے کے اندر ہو ،باہر کسی نامحرم تک نہ پہنچتی ہو، تو ایسی صورت میں عورتوں کے لیے اسپیکر کا استعمال جائز ہے، لیکن اگر آواز نامحرم مردوں تک پہنچتی ہو ،تو پھر جائز نہیں۔
الدرالمختارمع ردالمحتار: (1/ 406، ط: دارالفكر) (وصوتها على الراجح وذراعيها على المرجوح )المستثنى يعني أنه ليس بعورة ح (قوله على الراجح) عبارة البحر عن الحلية أنه الأشبه. وفي النهر وهو الذي ينبغي اعتماده. ومقابله ما في النوازل: نغمة المرأة عورة، وتعلمها القرآن من المرأة أحب. قال عليه الصلاة والسلام التسبيح للرجال، والتصفيق للنساءفلا يحسن أن يسمعها الرجل.