السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ ! کیا فرماتے ہیں علمائے کرام کہ ایک مرد نے دو گواہوں کے سامنے فون پر ایک عورت کے ساتھ ایجاب و قبول کیا اور آواز اوپن کر کے دونوں گواہوں نے آواز کو سنا تو کیا اس طرح ان کا نکاح منعقد ہوا یا نہیں ؟ والسلام
نکاح کے صحیح ہونے کے لیے ضروری ہے کہ ایجاب و قبول ایک ہی مجلس میں ہوں اور دو گواہ ایجاب و قبول کے الفاظ سنیں۔ اگر مرد یا عورت میں سے کوئی ایک خود مجلسِ نکاح میں موجود نہ ہو تو وہ کسی شخص کو اپنا وکیل مقرر کر سکتا ہے اور وکیل اس کی طرف سے نکاح کرسکتا ہے، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں اگر مرد نے موبائل فون پر عورت سے ایجاب و قبول کیا اور موبائل کی آواز اسپیکر پر کر کے دو گواہوں نے بھی سن لی تو اس طرح نکاح منعقد نہیں ہوا؛ کیونکہ مرد اور عورت ایک ہی مجلس میں موجود نہیں تھے، البتہ اگر موبائل فون پر کسی شخص کو وکیل مقرر کر دیا جائے اور وہ وکیل اس کی طرف سے دوسری مجلس میں ایجاب یا قبول کرے اور ایجاب و قبول کے وقت دونوں گواہ بھی اسی مجلس میں موجود ہوں تو ایسی صورت میں نکاح شرعاً درست ہوگا۔
الدر مع الرد:(14/3،ط: دارالفكر) ومن شرائط الإيجاب والقبول: اتحاد المجلس لو حاضرين. (قوله: اتحاد المجلس) قال في البحر: فلو اختلف المجلس لم ينعقد، فلو أوجب أحدهما فقام الآخر أو اشتغل بعمل آخر بطل الإيجاب؛ لأن شرط الارتباط اتحاد الزمان فجعل المجلس جامعا تيسيرا. الهندية:(294/1،ط: دارالفكر) يصح التوكيل بالنكاح، وإن لم يحضره الشهود، كذا في التتارخانية ناقلا عن خواهر زاده امرأة قالت لرجل: زوجني ممن شئت لا يملك أن يزوجها من نفسه، كذا في التجنيس والمزيد رجل وكل امرأة أن تزوجه فزوجت نفسها منه لا يجوز، كذا في محيط السرخسي وإذا وكل رجلا أن يزوجه امرأة بعينها ببدل سماه فزوجها الوكيل لنفسه بذلك البدل جاز النكاح للوكيل، كذا في المحيط. الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي:(6726/9،ط: دارالفكر) يرى الحنفية: أنه يصح التوكيل بعقد الزواج من الرجل والمرأة إذا كان كل منهما كامل الأهلية أي بالغا عاقلا حرا؛ لأن للمرأة عندهم أن تزوج نفسها، فلها أن توكل غيرها في العقد. الدر المختار:(96/3،ط: دارالفکر) (ويتولى طرفي النكاح واحد) بإيجاب يقوم مقام القبول في خمس صور كأن كان وليا أو وكيلا من الجانبين أو أصيلا من جانب ووكيلا أو وليا من آخر، أو وليا من جانب وكيلا من آخر كزوجت بنتي من موكلي (ليس) ذلك الواحد (بفضولي) ولو (من جانب) وإن تكلم بكلامين على الراجح لأن قبوله غير معتبر شرعا لما تقرر أن الإيجاب لا يتوقف على قبول غائب.