ہم اپنے گاؤں سے کاروبار کی غرض سے کوئٹہ آئے ہیں۔ ہمارے گاؤں اور کوئٹہ کے درمیان تقریباً 80 کلومیٹر کا فاصلہ ہے، ہم نے کوئٹہ میں اپنا گھر بھی بنا لیا ہے اور کاروبار کی غرض سے یہاں رہتے ہیں، ایسی صورت میں کوئٹہ میں ہمیں نماز قصر پڑھنی ہوگی یا پوری؟ نیز اگر کوئٹہ میں پندرہ دن یا اس سے زیادہ قیام کا ارادہ ہو تو کیا حکم ہوگا؟
واضح رہے کہ فقہائے کرام نے وطن کی تین قسمیں بیان فرمائی ہیں: 1) وطنِ اصلی: وہ جگہ جہاں انسان مستقل رہنے کے ارادے سے سکونت اختیار کرے، خواہ وہ اس کا آبائی گاؤں ہو یا کوئی دوسرا شہر۔ یہ وطن اس وقت تک باقی رہتا ہے جب تک وہاں سے مستقل طور پر سکونت ختم کرنے کا ارادہ نہ کرلیا جائے۔ 2) وطنِ اقامت: وہ جگہ جہاں انسان پندرہ دن یا اس سے زیادہ قیام کرنے کا ارادہ کرے، یہ وطن عارضی ہوتا ہے۔ 3) وطنِ سکنیٰ: وہ جگہ جہاں انسان پندرہ دن سے کم قیام کرنے کا ارادہ کرے۔ اسے فقہاء نے وطنِ سکنیٰ سے تعبیر کیا ہے۔ پوچھی گئی صورت میں اگر آپ نے کوئٹہ میں مستقل رہنے کی نیت نہیں کی، بلکہ صرف کاروبار کی غرض سے آئے ہیں اور اس گھر میں رہنے کے باوجود آپ کی اصل رہائش گاؤں ہی میں ہے تو صرف کوئٹہ میں گھر لینے کی وجہ سے کوئٹہ آپ کا وطنِ اصلی نہیں بنے گا، لہٰذا اگر آپ کوئٹہ میں پندرہ دن یا اس سے زیادہ قیام کی نیت سے گئے ہیں تو کوئٹہ میں آپ مقیم شمار ہوں گے اور پوری نماز پڑھیں گے اور اگر پندرہ دن سے کم قیام کا ارادہ ہو تو آپ مسافر ہوں گے اور فرض نمازوں میں قصر کریں گے، البتہ اگر آپ نے مستقل طور پر کوئٹہ میں رہائش اختیار کرنے کی نیت کرلی ہے تو کوئٹہ آپ کا وطنِ اصلی بن جائے گا اور وہاں آپ مقیم شمار ہوں گے اور پوری نماز پڑھیں گے۔
الشامية:(132/2،ط: دارالفكر) (قوله الوطن الأصلي) ويسمى بالأهلي ووطن الفطرة والقرار ح عن القهستاني. (يبطل بمثله) إذا لم يبق له بالأول أهل، فلو بقي لم يبطل بل يتم فيهما (لا غير و) يبطل (وطن الإقامة بمثله و) بالوطن (الأصلي و) بإنشاء (السفر) والأصل أن الشيء يبطل بمثله، وبما فوقه لا بما دونه. مراقی الفلاح:(165/1،ط: المكتبة العصرية) ويبطل الوطن الأصلي بمثله فقط ويبطل وطن الإقامة بمثله وبالسفر وبالأصلي والوطن الأصلي هو الذي ولد فيه أو تزوج أو لم يتزوج وقصد التعيش لا الارتحال عنه ووطن الإقامة موضع نوى الإقامة فيه نصف شهر فما فوقه ولم يعتبر المحققون وطن السكنى وهو ما ينوي الإقامة فيه دون نصف شهر. ملتقى الابحر:(243/1،ط: دارالكتب العلمية) ويبطل الوطن الأصلي بمثله لا بالسفر ووطن الإقامة بمثله والسفرالأصلي. العناية شرح الهداية:(44/2،ط: دارالفكر) أن الوطن الأصلي يبطل بالوطن الأصلي دون وطن الإقامة، وإنشاء السفر وهو أن يخرج قاصدا مكانا يصل إليه في مدة السفر لأن الشيء إنما يبطل بما فوقه أو ما يساويه وليس فوقه شيء فيبطل بما يساويه، ألا ترى أن رسول الله ﷺ بعد الهجرة عد نفسه بمكة من المسافرين وقال «أتموا صلاتكم فإنا قوم سفر» وأما وطن الإقامة فله ما يساويه وما هو فوقه فيبطل بكل منهما وبإنشاء السفر أيضا لأنه ضده.