محترم مفتی صاحب دامت برکاتہ! امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔ مجھے ایک شرعی مسئلہ دریافت کرنا ہے۔ فری فائر ایک آن لائن موبائل گیم ہے۔ اس گیم میں حقیقی رقم خرچ کر کے ایک مخصوص مجازی کرنسی (ڈائمنڈ) خریدی جاتی ہے، جس کے ذریعے گیم کے اندر مختلف چیزیں حاصل کی جاتی ہیں، مثلاً کردار کے لباس، ہتھیاروں کی ظاہری شکل میں تبدیلی اور دیگر ایسی اشیاء جو صرف گیم کے اندر استعمال ہوتی ہیں، ان چیزوں سے حقیقی دنیا میں کوئی مالی منفعت حاصل نہیں ہوتی۔ اس گیم میں بہت سے لوگ اپنی گیم آئی ڈیز کی خرید و فروخت بھی کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر میں کسی شخص سے ایک آئی ڈی 10,000 روپے میں خریدتا ہوں، پھر اسے کسی دوسرے شخص کو 16,000 روپے میں فروخت کر دیتا ہوں۔ بہت سے لوگ اس کام کو باقاعدہ کاروبار کے طور پر کرتے ہیں اور اسی طرح نفع کماتے ہیں۔ براہ کرم قرآن و سنت اور فقہ اسلامی کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں: 1۔ کیا فری فائر کی آئی ڈی کی خرید و فروخت شرعاً جائز ہے؟ 2۔ کیا خریدی ہوئی آئی ڈی کو زیادہ قیمت پر فروخت کر کے نفع کمانا حلال ہے؟ 3۔ اگر یہ معاملہ جائز نہیں تو اس کی شرعی وجہ کیا ہے؟
واضح رہے کہ اسلامی تعلیمات کی رو سے کسی کھیل یا گیم کے جائز ہونے کے لیے چند شرائط کا پایا جانا ضروری ہے: 1۔ کھیل بذاتِ خود جائز ہو اور اس میں کوئی ناجائز یا شرعی ممانعت والی چیز شامل نہ ہو۔ 2۔ اس میں کوئی دینی یا دنیاوی فائدہ پایا جاتا ہو، مثلاً جسمانی ورزش یا کوئی تعلیمی و مفید مقصد ۔ 3۔ کھیل کے دوران کوئی غیر شرعی امر، مثلاً موسیقی، جاندار کی تصاویر یا دیگر ممنوعات شامل نہ ہوں۔ 4۔ کھیل میں اس قدر انہماک نہ ہو کہ اس کی وجہ سے نماز اور دیگر فرائض و واجبات میں غفلت یا کوتاہی پیدا ہو۔ لہٰذا وہ گیمز جن میں نہ کوئی دینی فائدہ ہو اور نہ کوئی دنیاوی منفعت، بلکہ محض وقت کا ضیاع ہو، ان کا کھیلنا درست نہیں۔ اسی طرح جن گیمز میں موسیقی، جاندار کی تصاویر یا دیگر شرعی قباحتیں پائی جاتی ہوں، ان کا کھیلنا بھی ناجائز ہے۔ چونکہ عموماً آن لائن گیمز میں مذکورہ قباحتیں پائی جاتی ہیں، اس لیے ایسی گیمز کا کھیلنا اور ان کے ذریعے حاصل ہونے والی آمدنی یا نفع بھی ناجائز ہوگا۔ اسی طرح آئی ڈی کی خرید و فروخت کے ناجائز ہونے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ آئی ڈی کا خارج میں کوئی مستقل وجود نہیں ہوتا، جبکہ کسی چیز کو مبیع (فروخت کی جانے والی چیز) بنانے کے لیے ضروری ہے کہ وہ شرعاً مالِ متقوّم ہو اور اس کا خارج میں کوئی معتبر وجود پایا جاتا ہو۔ چونکہ آئی ڈی میں یہ اوصاف موجود نہیں، اس لیے آئی ڈی کی خرید و فروخت بھی شرعاً ناجائز ہے۔
القرأن الكريم :(لقمان31: 6) وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يَشۡتَرِي لَهۡوَ ٱلۡحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ بِغَيۡرِ عِلۡمٖ وَيَتَّخِذَهَا هُزُوًاۚ أُوْلَٰٓئِكَ لَهُمۡ عَذَاب مُّهِين . تفسير روح المعاني:(11/ 66، ط:دار الكتب العلمية ) ولَهْوَ الْحَدِيثِ على ما روي عن الحسن كل ما شغلك عن عبادة الله تعالى وذكره من السمر والأضاحيك والخرافات والغناء ونحوها . الدرالمختار : (6/ 349، ط: دارالفكر) وفي البزازية استماع صوت الملاهي كضرب قصب ونحوه حرام لقوله عليه الصلاة والسلام «استماع الملاهي معصية والجلوس عليها فسق والتلذذ بها كفر . الشامیة: (4/ 518،ط:دارالفكر) (قوله: لا يجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة عن الملك) قال: في البدائع: الحقوق المفردة لا تحتمل التمليك ولا يجوز الصلح عنها. ايضا: (5/ 58) إذ من شرط المعقود عليه: أن يكون موجودا مالا متقوما مملوكا في نفسه، وأن يكون ملك البائع فيما ببيعه لنفسه، وأن يكون مقدور التسليم منح.