مفتی صاحب! عقدِ اجارہ (ملازمت/معاہدے) سے متعلق ایک شرعی مسئلے میں رہنمائی درکار ہے: میں ایک اسٹیشنری (Stationery) کی دکان پر پارٹ ٹائم کام کر رہا ہوں۔ مالک کے ساتھ میرا معاہدہ اس طرح طے ہوا ہے کہ میری دو بنیادی ذمہ داریاں ہوں گی: حساب کتاب (ہفتے میں ایک دن): میں ہفتے میں صرف ایک دن (مثلاً جمعرات کو) دکان جا کر پورے ہفتے کا مکمل حساب دیکھوں گا، جس میں خریداریاں، دکان کے اخراجات (کھانے پینے وغیرہ)، فروخت اور مال کا حساب شامل ہے۔ پرچیزنگ / خریداری (ضرورت کے مطابق): پرچیزنگ کے لیے کوئی دن یا تعداد مقرر نہیں ہے، دکان کا ورکر جب بھی اطلاع دے گا کہ فلاں سامان ختم ہو گیا ہے، میں مارکیٹ جا کر وہ سامان خرید کر لاؤں گا۔ یہ پرچیزنگ پورے مہینے میں کسی بھی دن ہو سکتی ہے۔ (چاہے مہینے میں 2 بار ہو، 5 بار یا 10-15 بار)۔ ان دونوں ذمہ داریوں کے عوض میرے اور مالک کے درمیان ایک مقطوع ماہانہ (Fixed Monthly) تنخواہ/معاوضہ طے پایا ہے۔ سوالات: کیا ایسی صورتِ حال میں جہاں ایک کام (پرچیزنگ) کا دن اور وقت طے نہیں ہے بلکہ ضرورت کے تابع ہے، اس کے بدلے فکسڈ (Fixed) ماہانہ تنخواہ طے کرنا شرعاً درست ہے؟ کیا اس معاہدے میں کسی قسم کی شرعی قباحت (مثلاً عدمِ تعین یا غرر) تو نہیں؟ برائے مہربانی شرعی اصولوں کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیرا
واضح رہے کہ اگر کسی ادارے میں ملازمین کو وقت کی بنیاد پر کام کرنے کے لیے مقرر کیا جائے تو انہیں شرعاً اجیرِ خاص کہا جاتا ہے، اجیرِ خاص کا حکم یہ ہے کہ وہ ادارے کی طرف سے مقرر کردہ اوقات میں اپنے آپ کو کام کے لیے حاضر کرنے کا پابند ہوتا ہے اور مقررہ وقت میں حاضر رہنے کی وجہ سے وہ اپنی طے شدہ تنخواہ کا مستحق ہوتا ہے۔ اور وہ ملازمین جنہیں کسی متعین کام یا ہدف کی تکمیل کی بنیاد پر اجرت دی جاتی ہے، انہیں شرعاً اجیرِ عام کہا جاتا ہے۔ اجیرِ عام کا حکم یہ ہے کہ وہ ادارے کی طرف سے متعین کردہ کام یا ہدف کو پورا کرنے کا پابند ہوتا ہے اور متعین کام مکمل کرنے کے بعد اجرت کا مستحق ہوتا ہے، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں چونکہ دکان کے مالک کی طرف سے آپ کی تقرری وقت کے بجائے متعین کاموں کی بنیاد پر ہوئی ہے، اس لیے آپ اجیرِ عام کے حکم میں ہیں، چنانچہ آپ پر وہ کام مکمل کرنا لازم ہے جو آپ کے ذمہ مقرر کیے گئے ہیں، مثلاً ہفتے میں ایک مرتبہ حساب کتاب کرنا، اسی طرح پرچیزنگ کرنا، خواہ پرچیزنگ کی ضرورت مہینے میں کتنی ہی مرتبہ پیش آئے۔ جب بھی ادارے کو آپ کی خدمات کی ضرورت ہو، آپ اپنے ذمہ مقررہ کام کی انجام دہی کے لیے حاضر ہونے کے پابند ہوں گے، لہٰذا جب آپ اپنے ذمہ مقررہ کام اور ہدف کو مکمل کر دیں گے تو آپ اپنی طے شدہ اجرت کے شرعاً مستحق ہوں گے اور اگر آپ مقررہ کام مکمل نہیں کریں گے تو اس صورت میں اجرت کے استحقاق کا حکم معاہدے کی تفصیل کے مطابق ہوگا۔ پس مذکورہ صورت میں مقررہ کام اور ذمہ داریاں مکمل کرنے کے عوض تنخواہ لینا شرعاً جائز ہے۔
الشامية: (6/ 69،ط:دارالفكر) (والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو) شهرا (لرعي الغنم) المسمى بأجر مسمى بخلاف....وليس للخاص أن يعمل لغيره، ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل فتاوى النوازل. الهندية: (4/ 500،ط:دارالفكر) قالوا الأجير المشترك من يستحق الأجر بالعمل لا بتسليم نفسه للعمل والأجير الخاص من يستحق الأجر بتسليم نفسه وبمضي المدة ولا يشترط العمل في حقه لاستحقاق الأجر وبعضهم قالوا الأجير المشترك من يتقبل العمل من غير واحد والأجير الخاص من يتقبل العمل من واحد، وإنما يعرف استحقاق الأجر بالعمل على العبارة الأولى بإيقاع العقد على العمل.