السلام عليكم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کچھ باتیں سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں آپ سے ان کی تحقیق در کار ہے۔ 1. کیا ملک الموت دن میں 360 مرتبہ انسان کو دیکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فرمان کا منتظر ہے کہ روح قبض کرنے کا حکم کب آئے گا؟ ۲. کیا انسان مرنے کے بعد قبر میں دفن تک اپنی تجہیز و تکفین کو دیکھتا ہے؟ ۳. کیا انسان کی روح تین دن تک گھر میں چکر لگاتی ہے؟ ۴. اور کیا جب انسان مرجاتا ہے تو برزخ میں اس کے رشتہ دار اس سے دنیا کے بارے میں سوال کرتے ہیں؟ برائے مہربانی جواب عنایت فرمائیں جزاکم اللہ خیرا
1) یہ کہنا کہ ملک الموت انسان کو دن میں تین سو ساٹھ مرتبہ دیکھتا ہے، ایک بے اصل اور غلط بات ہے، اس کی کوئی شرعی حقیقت ثابت نہیں، لہٰذا اسے حدیث یا شرعی حقیقت سمجھ کر بیان کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ 2)واضح رہے کہ انسان کے مرنے کے بعد بھی اسے ایک خاص درجے کا شعور اور ادراک حاصل رہتا ہے، چنانچہ صحیح روایات میں آتا ہے کہ جب میت کو اس کے کندھوں پر اٹھایا جاتا ہے تو اگر وہ نیک ہو تو کہتی ہے: مجھے جلدی لے چلو، اور اگر وہ بدکار ہو تو کہتی ہے: ہائے ہلاکت! مجھے کہاں لے کر جا رہے ہو؟ اسی طرح روایات میں یہ بھی وارد ہے کہ جب میت کو دفن کرکے لوگ واپس لوٹتے ہیں تو وہ ان کے جوتوں کی آہٹ سنتی ہے۔ ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ موت کے بعد انسان کے اندر ایک خاص نوعیت کا شعور اور ادراک باقی رہتا ہے اور روح کا جسم کے ساتھ کسی نہ کسی درجے میں تعلق برقرار رہتا ہے۔ تاہم یہ بات کہ انسان اپنی تجہیز و تکفین، جنازے یا تدفین کے تمام مراحل کو دیکھتا رہتا ہے، روایات میں صراحتاً ثابت نہیں ہے، لہٰذا ان روایات کی بنیاد پر یہ کہنا درست نہیں کہ میت اپنی آنکھوں سے اپنے جنازے اور تدفین کا مشاہدہ کرتی ہے، نیز موت کے بعد انسان دنیاوی زندگی سے نکل کر عالمِ برزخ میں منتقل ہوجاتا ہے، اس لیے برزخی زندگی میں روح کے شعور، ادراک، سماعت اور بصارت کو دنیاوی زندگی کے شعور و ادراک، سماعت اور بصارت پر قیاس نہیں کیا جاسکتا۔ ان دونوں جہانوں کے احکام اور کیفیات مختلف ہیں، جن کی حقیقی کیفیت اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ 3) انسان کی روح موت کے بعد تین دن تک اپنے گھر کا چکر لگاتی رہتی ہے، اس بات کی کوئی شرعی حقیقت ثابت نہیں ہے۔ صحیح روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب مومن کی روح قبض کی جاتی ہے تو اسے آسمانوں کی طرف لے جایا جاتا ہے، اور نیک روح کے بارے میں عِلّیِّین کا ذکر ملتا ہے، جبکہ بدکار کی روح کے لیے سِجِّین کا ذکر وارد ہوا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ موت کے بعد روح دنیاوی زندگی سے منتقل ہوکر ایک دوسرے عالم میں داخل ہوجاتی ہے، اگرچہ عالمِ برزخ میں روح کا جسم کے ساتھ ایک مخصوص تعلق برقرار رہتا ہے، لہٰذا یہ کہنا کہ موت کے بعد روح تین دن تک اپنے گھر میں واپس آتی ہے، گھر والوں کے درمیان چکر لگاتی ہے، ان کے حالات دیکھتی ہے یا گھر میں ہونے والے واقعات کا مشاہدہ کرتی رہتی ہے، بے بنیاد اور من گھڑت بات ہے، جس کی کوئی معتبر شرعی دلیل نہیں۔ اسے حدیثِ رسول ﷺ یا ثابت شدہ شرعی حقیقت کے طور پر بیان کرنا درست نہیں، لہٰذا ایسی باتوں کو بیان کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ 4)واضح رہے کہ روایات سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ موت کے بعد نیک مؤمن کی روح کو دیگر مؤمن مرحومین کی ارواح سے ملاقات ہوتی ہے اور وہ اس سے دنیا میں رہ جانے والے بعض لوگوں کے حالات کے بارے میں سوال کرتے ہیں، چنانچہ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب مؤمن کی روح قبض کی جاتی ہے تو اللہ کے مرحوم بندے اس طرح آگے بڑھ کر اس سے ملتے ہیں جیسے دنیا میں کسی خوش خبری لانے والے سے ملا کرتے ہیں، پھر (ان میں سے بعض) کہتے ہیں کہ ذرا اس کو مہلت دو کہ دم لے لے؛ کیوں کہ (دنیا میں ) یہ بڑے کرب میں تھا ، اس کے بعد اس سے پوچھنا شروع کرتے ہیں کہ فلاں شخص کا کیا حال ہے؟ اور فلاں عورت کا کیا حال ہے کہ کیا اس نے نکاح کر لیا ہے؟ پھر اگر کسی ایسے شخص کا حال پوچھ لیں جو اس شخص سے پہلے مر چکا ہے اور اس نے کہہ دیا کہ وہ تو مجھ سے پہلے مر چکا ہے تو "انا للہ" پڑھ کر کہتے ہیں کہ بس اس کو اس کے ٹھکانے یعنی دوزخ کی طرف لے جایا گیا، اور وہ جانے کی بری جگہ ہے اور رہنے کی بھی بری جگہ ہے، اور ارشاد فرمایا کہ تمہارے اعمال تمہارے رشتہ دار اور خاندان والوں کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں، جو کہ آخرت میں ہیں، اگر عمل نیک ہوا تو خوش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے اللہ یہ آپ کا فضل اور رحمت ہے ، اپنی یہ نعمت اس پر پوری کیجیے اور اسی پر اس کو موت دیجیے اور ان پر گناہ گار کا عمل بھی پیش ہوتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ اے اللہ اس کے دل میں نیکی ڈال جو تیری رضا اور قرب کا سبب ہو جائے۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ عالمِ برزخ میں نیک مسلمان مرحومین کو اپنے رشتہ داروں کے انتقال کی نہ صرف یہ کہ خبر ملتی ہے، بلکہ ان سے ملاقات بھی ہوتی ہے۔
القرآن الکریم:(الآية39/42) "اَللّٰهُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا وَالَّتِيْ لَمْ تَمُتْ فِيْ مَنَامِهَا ۚ فَيُمْسِكُ الَّتِيْ قَضٰى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْاُخْرٰٓى اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّــقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ التفسير المظهرى:(225/10، ط: مکتبة الرشيد) "قلنا: وجه التطبيق أنّ مقرّ أرواح المؤمنين في عليين أو في السماء السابعة و نحو ذلك كما مر و مقرّ أرواح الكفار في سجين، و مع ذلك لكل روح منها اتصال لجسده في قبره لايدرك كنهه إلا الله تعالى." صحيح البخاري؛ (رقم الحدیث:1316،ط:دار طوق النجاۃ) 1316 - حدثنا عبد الله بن يوسف: حدثنا الليث: حدثنا سعيد، عن أبيه أنه سمع أبا سعيد الخدري رضي الله عنه قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم يقول: «إذا وضعت الجنازة، فاحتملها الرجال على أعناقهم، فإن كانت صالحة قالت: قدموني، وإن كانت غير صالحة قالت لأهلها: يا ويلها، أين يذهبون بها، يسمع صوتها كل شيء إلا الإنسان، ولو سمع الإنسان لصعق.» ایضاً: (2/ 90) 1338 - حدثنا عياش: حدثنا عبد الأعلى: حدثنا سعيد قال: وقال لي خليفة: حدثنا ابن زريع: حدثنا سعيد، عن قتادة، عن أنس رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «العبد إذا وضع في قبره وتولي وذهب أصحابه، حتى إنه ليسمع قرع نعالهم، أتاه ملكان فأقعداه، فيقولان له: ما كنت تقول في هذا الرجل محمد صلى الله عليه وسلم؟ فيقول: أشهد أنه عبد الله ورسوله، فيقال: انظر إلى مقعدك من النار، أبدلك الله به مقعدا من الجنة. قال النبي صلى الله عليه وسلم: فيراهما جميعا، وأما الكافر، أو المنافق، فيقول: لا أدري، كنت أقول ما يقول الناس، فيقال: لا دريت ولا تليت، ثم يضرب بمطرقة من حديد ضربة بين أذنيه، فيصيح صيحة يسمعها من يليه إلا الثقلين. المعجم الأوسط للطبراني (1/ 53، ط: دار الحرمين ) وعن زيد بن واقد، وهشام بن الغاز، عن مكحول، عن عبد الرحمن بن سلامة، عن أبي رهم السماعي، عن أبي أيوب الأنصاري، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «إن نفس المؤمن إذا قبضت تلقاها أهل الرحمة من عباد الله، كما تلقون البشير من أهل الدنيا، فيقولون: أنظروا صاحبكم يستريح، فإنه في كرب شديد، ثم يسألونه: ما فعل فلان، وفلانة هل تزوجت؟ فإذا سألوه عن الرجل قد مات قبله، فيقول: أيهات، قد مات ذاك قبلي. فيقولون: إنا لله وإنا إليه راجعون، ذهب به إلى أمه الهاوية، بئست الأم، وبئست المربية» . وقال: «إن أعمالكم تعرض على أقاربكم، وعشائركم من أهل الآخرة، فإن كان خيرا فرحوا واستبشروا، وقالوا: اللهم هذا فضلك ورحمتك، فأتمم نعمتك عليه، وأمته عليها. ويعرض عليهم عمل المسيء، فيقولون: اللهم ألهمه عملا صالحا ترضى به، وتقربه إليك» . لم يرو هذين الحديثين عن مكحول إلا زيد بن واقد، وهشام بن الغاز، تفرد بهما مسلمة بن علي. مرقاة المفاتيح: (3/ 1177،ط:دارالفكر) «قال العسقلاني في فتاويه: أرواح المؤمنين في عليين، وأرواح الكفار في سجين، ولكل روح بجسدها اتصال معنوي لا يشبه الاتصال في الحياة الدنيا، بل أشبه شيء به حال النائم، وإن كان هو أشد من حال النائم اتصالا.