السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ! اگر پھل پکا یا کچا ہونے کی حالت میں ٹھیکیدار کو بیچ دیا جائے تو کیا یہ جائز ہے؟
درختوں پر لگے ہوئے پھلوں کی خرید و فروخت کے جائز ہونے کے لیے ضروری ہے کہ پھل درخت پر ظاہر ہو چکے ہوں، اگرچہ ابھی مکمل طور پر پکے اور تیار نہ ہوئے ہوں، اگر سودا کرتے وقت خریدار اور فروخت کنندہ کے درمیان یہ طے ہو کہ پھل فوراً توڑ لیے جائیں گے تو ایسی صورت میں خرید و فروخت جائز ہے، اسی طرح اگر پھل توڑنے یا درخت پر باقی رکھنے کے بارے میں کوئی شرط نہ لگائی جائے اور مطلقاً سودا کرلیا جائے، تب بھی اصلًا بیع درست ہوگی۔ البتہ اگر عقدِ بیع کے وقت یہ شرط رکھی جائے کہ پھل پکنے تک درختوں پر ہی رہیں گے اور بعد میں توڑے جائیں گے تو یہ شرطِ فاسد ہے، لہٰذا ایسی شرط کے ساتھ پھلوں کی خرید و فروخت شرعاً جائز نہیں۔ ہر خرید و فروخت میں یہ بھی ضروری ہے کہ فروخت کی جانے والی چیز (مبیع) واضح طور پر معلوم ہو، اس کی مقدار متعین ہو اور سودا کرتے وقت بائع اس چیز کو خریدار کے حوالے کرنے پر قادر ہو، لہٰذا اگر پھل یا اس کی مقدار غیر متعین ہو، یا فروخت کنندہ کے لیے اسے خریدار کے حوالے کرنا ممکن نہ ہو تو اس صورت میں خرید و فروخت شرعاً درست نہیں ہوگی۔
الهندية:(106/3،ط: دارالفكر) وفي بيع الزرع والرطبة والحشيش بيع الثمار قبل الظهور لا يصح اتفاقا فإن باعها بعد أن تصير منتفعا بها يصح وإن باعها قبل أن تصير منتفعا بها بأن لم تصلح لتناول بني آدم وعلف الدواب فالصحيح أنه يصح وعلى المشتري قطعها في الحال هذا إذا باع مطلقا أو بشرط القطع فإن باع بشرط الترك فسد البيع وهذا إذا لم يتناه عظمها فإن تناهى عظمها فباعها مطلقا أو بشرط القطع صح وإن باع بشرط الترك لم يصح قياسا عند أبي حنيفة وأبي يوسف - رحمهما الله تعالى - وصح استحسانا عند محمد - رحمه الله تعالى - وفي الأسرار أن الفتوى على قوله كذا في الكافي وفي التحفة الصحيح قولهما كذا في النهر الفائق. الدرالمختار مع رد المحتار:(554/4،ط: دارالفكر) (ومن باع ثمرة بارزة) أما قبل الظهور فلا يصح اتفاقا. (ظهر صلاحها أو لا صح) في الأصح. (ولو برز بعضها دون بعض لا) يصح. (في ظاهر المذهب) وصححه السرخسي وأفتى الحلواني بالجواز. (قوله: أما قبل الظهور) أشار إلى أن البروز بمعنى الظهور، والمراد به انفراد الزهر عنها وانعقادها ثمرة وإن صغرت. (قوله: ظهر صلاحها أو لا) قال: في الفتح لا خلاف في عدم جواز بيع الثمار قبل أن تظهر ولا في عدم جوازه بعد الظهور قبل بدو الصلاح، بشرط الترك ولا في جوازه قبل بدو الصلاح بشرط القطع فيما ينتفع به، ولا في الجواز بعد بدو الصلاح، لكن بدو الصلاح عندنا أن تؤمن العاهة والفساد، وعند الشافعي هو ظهور النضج وبدو الحلاوة. الشامية:(505/4،ط: دارالفكر) وشرط المعقود عليه ستة: كونه موجودا مالا متقوما مملوكا في نفسه، وكون الملك للبائع فيما يبيعه لنفسه، وكونه مقدور التسليم فلم ينعقد بيع المعدوم وما له خطر العدم...وأما الثالث: وهو شرائط الصحة فخمسة وعشرون: منها عامة ومنها خاصة، فالعامة لكل بيع شروط الانعقاد المارة؛ لأن ما لا ينعقد لا يصح، وعدم التوقيت، ومعلومية المبيع، ومعلومية الثمن بما يرفع المنازعة فلا يصح بيع شاة من هذا القطيع وبيع الشيء بقيمته، أو بحكم فلان وخلوه عن شرط مفسد كما سيأتي في البيع الفاسد والرضا والفائدة، ففسد بيع المكره وشراؤه وبيع ما لا فائدة فيه وشراؤه كما مر.