مفتی صاحب !
فاریکس ٹریڈنگ کیا حکم ہے؟
کرنسی کی خرید و فروخت کے لیے تین شرائط کا پایا جانا ضروری ہے:
(1) لین دین حقیقی ہو، فقط اکاؤنٹ میں ظاہر نہ کی جائے۔
(2) بیچنے والا کرنسی کا حقیقتاً مالک ہو اور بیچنے والا اس پر قبضہ بھی کر لے۔
(3) مختلف ممالک کی کرنسیوں کالین دین ہو تو مجلس عقد میں ہی کسی ایک کرنسی پر قبضہ کر لیا جائے۔
حقیقی خرید و فروخت نہ ہونے کی بنا پر اکثر صورتوں میں ’’بیع الدین بالدین‘‘ (ادھار کی بیع ادھار کے ساتھ) ہوتی ہے، جو کہ ناجائز ہے۔
فاریکس ٹریڈنگ میں اسکرین پر محض اعداد و شمار کے بڑھنے اور کم ہونے کو نفع اور نقصان شمار کیا جاتا ہے، کسی چیز پر قبضہ نہیں ہوتا۔ اس لحاظ سے اس میں قمار (جوا)کی قباحت پائی جاتی ہے، اس لیے یہ ناجائز ہے۔
نیز اس میں حسی یا حقیقی قبضہ نہیں ہوتا، یوں سب لوگ بغیر قبضہ کیے اس کو آگے فروخت کر دیتے ہیں، جو کہ جائز نہیں۔
لہذا فاریکس ٹریڈنگ کے ذریعہ کاروبار قمار (جوا) ، بیع المعدوم(غیر موجود شئی کی بیع) ، بیع قبل القبض (قبضہ سے پہلے مبیع آگے فروخت کرنا) اور بیع الکالی بالکالی(قرض کی قرض کے بدلے بیع)پر مشتمل ہونے کی وجہ سے حرام ہے اور اس میں سرمایہ کاری شرعا جائز نہیں، اس لیے اس سے احتراز لازم ہے۔
*المائدہ:7:90)*
قال الله تعالى: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ.
*الشامية:(505/4،ط: دارالفکر)*
وشرط المعقود عليه ستة: كونه موجودا مالا متقوما مملوكا في نفسه، وكون الملك للبائع فيما يبيعه لنفسه، وكونه مقدور التسليم فلم ينعقد بيع المعدوم وما له خطر العدم.
*ایضاً:(561/4)*
ثم التسليم يكون بالتخلية على وجه يتمكن من القبض بلا مانع ولا حائل. وشرط في الأجناس شرطا ثالثا وهو أن يقول: خليت بينك وبين المبيع فلو لم يقله أو كان بعيدا لم يصر قابضا والناس عنه غافلون، فإنهم يشترون قرية ويقرون بالتسليم والقبض، وهو لا يصح به القبض على الصحيح وكذا الهبة والصدقة.
*المبسوط للسرخسي:(14/4،ط: دار الکتاب الاسلامی)*
ولأن هذا العقد مبادلة الثمن بالثمن والثمن يثبت بالعقد دينا في الذمة والدين بالدين حرام في الشرع لنهي النبي صلى الله عليه وسلم عن بيع الكالئ بالكالئ فما يحصل به التعيين وهو القبض لا بد منه في هذا العقد.