ایک شخص نے اپنے مسلمان پڑوسی کے ساتھ باہمی رضامندی سے زمین کا تبادلہ کیا، دونوں نے حد بندی بھی کر دی اور نشان بھی لگا دیے۔ بعد میں اس شخص نے شرارتا جان بوجھ کر وہ نشانات آگے کر دیے، جس کی وجہ سے اس کی زمین ناجائز طور پر بڑھ گئی، اب اسے اپنی اس غلطی پر سخت ندامت اور احساسِ گناہ ہے، لیکن جس شخص کی زمین تھی وہ وفات پا چکا ہے، البتہ اس کا ایک بیٹا موجود ہے جو وارث ہے۔ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں: 1. اس شخص پر شرعاً کیا لازم ہے؟ 2. کیا اسے اصل حد بندی بحال کرنی چاہیے؟ 3. اگر ممکن نہ ہو تو کیا وارث (بیٹے) کو حقیقت بتا کر اس کا حق واپس کرنا ضروری ہے؟ 4. اگر وہ معاف کر دے تو کیا ذمہ داری ختم ہو جائے گی؟ جزاکم اللہ خیراً۔
واضح رہے کہ کسی بھی انسان کا حق مارنا ناجائز اور حرام ہے، اگر کسی شخص نے کسی کا حق، ناحق لیا ہو تو اس پر صرف توبہ و استغفار کرنا کافی نہیں، بلکہ صاحبِ حق کا حق واپس کرنا بھی لازم ہے۔ پوچھی گئی صورت میں چونکہ زمین کے اصل مالک کا انتقال ہو چکا ہے اور اس کے وارث موجود ہیں، اس لیے ناجائز طور پر قبضہ کی گئی زمین اس کے شرعی ورثاء کے حوالے کرنا ضروری ہے، البتہ اگر ورثاء اپنی خوشی اور رضامندی سے اس حق کو معاف کر دیں تو معاف کرنا معتبر ہوگا اور زمین واپس کرنا لازم نہیں رہے گا۔
مرقاة المفاتيح: (7/ 3057،ط:دار الفكر) 4877 - وعن أنس رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " «إن من كفارة الغيبة أن تستغفر لمن اغتبته، تقول: اللهم اغفر لنا وله»..... وقال النووي: رأيت في فتاوى الطحاوي أنه يكفي الندم والاستغفار في الغيبة وإن بلغت، فالطريق أن يأتي المغتاب ويستحل منه فإن تعذر لموته أو لغيبته البعيدة استغفر الله تعالى." الشامية:(291/2،ط:دارالفكر) لأن المغصوب ان علمت اصحابه أو ورثتهم وجب رده عليهم والا وجب التصدق به.